ایک سفر
Urdu book, p. 290
By Maulana Wahiduddin Khan
پیش آنے کے بعد اس نے امریکہ سے تعلق قائم کرلیا اور اپنی فوجیں سعودی عرب بھیج دیں، جہاں وہ امریکہ کے ماتحت عمل کریں گی۔ مسٹر جی ایچ جانسن (G.H. Jansen) نے اس واپسی کو یوٹرن (U-turn) کا نام دیا ہے۔ دمشق کے ہوائی اڈہ پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ خلیج کے بحران پر گفت گو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کویت تو اس سے پہلے عراق کا ایک حصہ تھا۔ اور بصرہ کے ماتحت تھا۔ ایسی حالت میں اگر صدام حسین نے کویت پر قبضہ کر لیا ہے تو اس کے لئے یورپ اور امریکہ کی فوج بلانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو صاحب حق کو اس کا حق ملنے کے ہم معنی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں کہ کویت اس سے پہلے عراق کا حصہ تھا۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کویت عثمانی سلطنت کا ایک حصہ تھا جس طرح خود عراق عثمانی سلطنت کا ایک حصہ تھا۔ البتہ کویت چوں کہ بہت چھوٹا ملک تھا اور اس وقت اس کی آبادی بہت کم تھی، اس لئے عثمانیوں نے اس کو بصرہ کے گورنر کے ماتحت کر رکھا تھا۔ تاہم اس سے قطع نظر، بجائے خود یہ ایک غلط اصول ہے کہ اس قسم کے معاملات کا فیصلہ ماضی کی بنیاد پر کیا جائے۔ اگر یہ کوئی صحیح اصول ہو تو پھر فلسطین پر یہودیوں کے قبضہ کو بھی جائز قرار دینا چاہئے، کیوں کہ ایک زمانہ میں فلسطین بھی یہودی سلطنت کا حصہ تھا۔ مزید یہ کہ یہودیوں کو فلسطین کا علاقہ خود خدا کی طرف سے بطور انعام دیا گیا تھا۔ بین اقوامی دنیا میں اگر اس اصول کو پھیلایا جائے تو ساری دنیا کا جغرافیہ از سر نو بنانا پڑے گا۔ کیا صدام حسین کے حامی اپنے نظریہ کے اس وسیع انطباق کے لئے تیار ہیں۔ عام حالات میں یہ جہاز دمشق سے سیدھا کراچی جاتا ہے۔ مگر آج وہ کویت سے آئے ہوئے لوگوں کو لینے کے لئے عمان ائیر پورٹ پر اترا۔ یہاں ڈیڑھ گھنٹہ ٹھہرارہا۔ تمام سیٹیں بھر گئیں۔ آنے والے لوگ جب جہاز کے اندر داخل ہوئے تو میں ان کے چہروں کو غور سے دیکھتا رہا۔ ان کے چہرہ پر خوشی کے آثار تھے۔ کیوں کہ انھیں یقین تھا کہ اب وہ، بحرانی دور سے باہر آچکے ہیں اور چند گھنٹے کے بعد وہ اپنے وطن میں پہنچ جائیں گے۔ آدمی پر مشکلات پیش آتی ہیں۔ جب وہ مشکلوں کے اندر گھرا ہوا ہو تو وہ سخت مایوسی میں مبتلا ہو جاتا ہے، مگر جب حالات بدلتے ہیں تو اچانک وہ اطمینان کی کیفیت محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے۔ وہ ماضی کو بہت جلد بھول جاتا ہے۔ اگر یہ بھولنے کا مادہ آدمی کے اندر نہ ہو تو اس کے لئے زندگی گزارنا سخت مشکل ہوجائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader