ایک سفر
Urdu book, p. 296
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفر ۶ اکتوبر ۱۹۹۱ کی شام کو مجھے ایک لمبے سفر پر روانہ ہونا تھا۔ دہلی سے چل کر روم اور مالٹا اور قاہرہ پہنچنا تھا اور وہاں سے پھر دہلی واپس آنا تھا۔ آج کا اخبار آیا تو اس کے پہلے صفحہ کی اس خبر پر نظر اٹک گئی کہ ـــــ ہوائی حادثہ میں ۱۳۲ آدمی ہلاک ہو گئے۔ خبریں بتلایا گیا تھا کہ انڈونیسی ائیر فورس کے ایک جہاز میں اُڑان بھرنے کے صرف تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا۔ وہ جکارتا کی ایک بلڈنگ پر گر پڑا۔ اس کے تمام ۱۳۲ مسافر جل کر مر گئے: An Indonesian air force plane crashed and exploded shortly after take-off today, killing all 132 people on board. ایک تاجر کے بارہ میں ایک بار میں نے پڑھا کہ وہ کسی سفر پر جانے والا تھا۔ عین اسی دن ایک ہوائی حادثہ کی خبر ملی۔ اس نے اپنا سفر منسوخ کر دیا۔ لیکن اگلے روز عین اس وقت اس کے دل کی حرکت بند ہوگئی جب کہ وہ اپنے محفوظ مکان میں کھانے کی میز پر بیٹھا ہوا صبح کی چائے پی رہا تھا۔ اگر ہم انسانی جہاز میں سفر نہ کریں تب بھی ہم ایک خدائی جہاز کے مسافر ہوتے ہیں۔ یہ ہمارا جسم ہے جس میں بیٹھ کر ہماری شخصیت زندگی کا سفر طے کر رہی ہے۔ جس لمحہ خدا کا حکم ہوگا جسم کی یہ سواری ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور اس کے بعد ہماری شخصیت (روحانی وجود) اس سے نکل کر خدا کی عدالت میں حاضر کر دیا جائے گا۔ آدمی کو اگر اس حقیقت کا احساس ہو تو اس کو اپنے پرسکون مکان میں بیٹھنا بھی اسی طرح پرخطر دکھائی دینے لگے جس طرح کسی سمندری یا ہوائی سواری میں سفر کرنا۔ ۶ اکتوبر ۱۹۹۱ کی شام کو عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر دہلی ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ میرے ساتھ ثانی اسمین بھی تھے۔ ہماری گاڑی مانوس راستوں سے گزرتی ہوئی پرسکون طور پر آگے بڑھ رہی تھی۔ اور میرے ذہن میں خیالات کا طوفان برپاتھا۔ ایک لمحہ کے لئے مجھے محسوس ہو کہ میرا دماغ ایک قسم کی کنورٹنگ مشین ہے جس میں دنیا کا ہر غم آخرت کے غم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ میرا یہ مزاج اتنا بڑھا ہوا ہے کہ میرا دماغ خوشی کے واقعہ کو بھی غم میں بدلتا ہے، تاکہ دوبارہ اس کو غم آخرت میں ڈھال سکے۔ دنیا میرے لئے ایک تجربہ غم تھی۔ کاش اللہ اپنی رحمت سے آخرت کو میرے لئے تجربہ مسرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader