ایک سفر
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاز سے اتر کر ایر پورٹ کی بس پر سوار ہواتو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ بس میں زیادہ تر مسافر پاکستان (کراچی) کے تھے۔ زیادہ عمر کے ایک بزرگ اندر داخل ہو کر ایک طرف کھڑے ہوگئے۔ ایک شخص نے ان کو دیکھ لیا اور اپنی طرف بلاتے ہوئے کہا کہ آئیے، یہاں بیٹھ جائیے۔ وہ بدستور کھڑے رہے اور کہا: میاں، بیٹھنے کا وقت کہاں، اب تو لیٹنے کا وقت ہے۔ ان کی زبان سے یہ فقرہ سن کر دل تڑپ اٹھا۔ مجھے اپنا معاملہ یاد آگیا۔ میری عمر اب ۶۵ سال ہو چکی ہے۔ بڑھاپا اپنی تمام علامتوں کے ساتھ آنا شروع ہو گیا ہے۔ اب وہ وقت قریب آگیا ہے جب کہ دنیا کی سیٹ پر بیٹھنے کے بجائے مجھے قبر کے تختہ پر لٹادیا جائے۔ یہ دن ہر شخص کے لئے مقدر رہے۔ ہر شخص کے ساتھ ایسا ہونے والا ہے کہ اس کی موت آجائے۔ اس کو "اپنی دنیا" سے نکال کر "خدا کی دنیا" میں داخل کر دیا جائے۔ کتنا سنگین لمحہ ہر شخص پر آنے والا ہے۔ مگر ہر شخص کتنا زیادہ اس سے غافل پڑا ہوا ہے۔ ڈاکٹر خالد انعام اللہ صاحب بھی اسی جہاز سے اترے تھے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف اکثر سفر میں رہتے ہیں اور بے شمار کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔ ان کے ساتھ ان کے محترم والد ڈاکٹر انعام اللہ خاں (۷۵ سال) کے مکان پر آیا۔ یہاں تقریباً آدھ گھنٹہ قیام رہا۔ ڈاکٹر انعام اللہ خاں صاحب موتمر عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ہیں۔ اس کو مولانا محمد علی وغیرہ نے قائم کیا تھا۔ ۱۹۲۴ میں جب خلافت تحریک سیاسی حیثیت سے ختم ہو گئی تو مولانا محمد علی وغیرہ کے سامنے سوال آیا کہ ” اب کیا “۔ حکومتی سطح پر خلافت کا نظام قائم کرنے کے مواقع نہیں تھے ، چنانچہ انھوں نے ” ادارہ “ کی سطح پر اس کام کو جاری رکھنے کے لئے ۱۹۲۶ میں مذکورہ موتمر قائم کی۔ اس کے پہلے صدر مفتی اعظم فلسطین اور نائب صدر علامہ اقبال تھے۔ ڈاکٹر انعام اللہ خاں صاحب نے اپنے والد حاجی عبدالكریم خاں غازیپوری (وفات ۱۹۶۴) کے بارہ میں بتایا کہ وہ نہایت نیک نفس آدمی تھے۔ اپنے ملازموں کو جاہل دیکھنا انھیں گوارا نہ تھا۔ چنانچہ وہ خود انھیں پڑھایا کرتے تھے ۔ اور کہا کرتے تھے کہ لوگوں کو کھلانے پلانے میں کوتاہی نہ کرو ، اور جو کچھ تمہارے گھر میں موجود ہے بس وہی پیش کر دو ، کیوں کہ جو تمہارے کھانے کے قابل ہے ، وہ تمہارے مہمان کے کھانے کے قابل بھی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader