Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 373

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکتا کہ وہ طاقت کے زور پر مکمل اسلامی نظام نافذ کر دیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ آج تشدد کی تحریکیں چلا رہے ہیں تاکہ اقتدار پر قبضہ کر کے اسلامی نظام کو نافذ کریں، وہ یا تو انتہائی نادان ہیں یا انتہائی غیر سنجیدہ ۔ ان دو کے سوا کوئی اور خانہ نہیں جس میں ان کو جگہ دی جاسکے۔ ۱۹۹۱ کے الیکشن کے بعد انڈیا کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں جو ممبران منتخب ہو کر آئے ہیں ان میں مسلم ممبروں کی تعداد ہمیشہ سے بہت کم ہے۔ اس پر یہاں کے مسلم حلقوں میں طرح طرح کے مایوسانہ تبصرے کئے جا رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں دہلی کے روز نامہ قومی آواز ( ۹ ستمبر ۱۹۹۱) میں مسٹر دیش راج گوئل کے قلم سے ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے : "ملک کا سب سے زیادہ پریشان حال طبقہ "۔ مضمون نگار لکھتے ہیں : سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی پارلیمنٹ میں مسلمان ممبران کی زیادہ تعداد ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے جو بھارت میں انھیں درپیش ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں تو مسلمان ہی بھاری اکثریت میں موجود ہیں۔ پھر کیا یہ مسلم ممبران پاکستان کے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو گئے "۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ ہندو لیڈر کے یہ الفاظ مسلمانوں کے لئے چشم کشا حیثیت رکھتے ہیں مسلمانوں کا مسئلہ مسلم ممبران " حل نہیں کر سکتے ۔ اگر ایسا ہوتا تو پاکستان اور بنگلہ دیش میں مسلمانوں کے مسائل حل ہو چکے ہوتے ۔ مگر وہاں بھارت سے بھی زیادہ سنگین مسائل موجود ہیں حقیقت یہ ہے کہ مسائل کے حل کے لئے ہمیں خود مسلم قوم کو تیار کرنا چاہئے ۔ مسلم قوم میں جب تک تعمیری انداز میں فکری بیداری نہ لائی جائے ، کوئی بھی دوسری تدبیر ان کے مسائل کو حل کرنے والی نہیں، خواہ بھارت کا معاملہ ہو، پاکستان اور بنگلہ دیش کا معاملہ ۔ اگست ۱۹۹۱ کے آخری ہفتہ میں جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے پچاسویں یوم تاسیس" کی تقریبات لاہور میں منعقد کیں ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ذمہ داروں نے پر جوش تقریریں کیں ۔ اخباری رپورٹ کے مطابق ، ان تقریروں میں بڑی دلچسپ باتیں کہی گئیں جماعت اسلامی پاکستان اپنے آٹھ ممبران اسمبلی کے ساتھ " اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت میں شامل ہے ۔ مگر جماعت کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page