ایک سفر
Urdu book, p. 382
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ سرخی علامتی طور پر اس امکان کو بتا رہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے ابدی طور پر رکھ دیا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام کے بازو اتنے لمبے ہیں کہ امریکہ بھی اس کی زد سے باہر نہیں۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے حق میں اس امکان کو بہت کم استعمال کیا گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو سمجھا جائے اور اس کو پوری طرح استعمال کیا جائے۔ جنرل ضیاء الحق صاحب ساڑھے گیارہ سال تک پاکستان کے بااختیار صدر رہے۔ مگر انھوں نے اپنے لڑکوں کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔ ان کے لڑکے عام لوگوں کی طرح بینک وغیرہ میں سروس کرتے رہے۔ مگر ضیاء الحق صاحب کی وفات کے بعد ان کے دونوں لڑکے (اعجاز الحق، انوار الحق) نے انتخاب میں حصہ لیا۔ وہ کبھاری وہ ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔ اب دونوں لڑکے مرکزی کیبنٹ میں منسٹر ہیں۔ عام طور پر بااختیار لوگ صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ اپنے اختیار کو استعمال کر کے اپنے بیٹوں کو اچھے عہدے دلا دیں۔ مگر مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ بیٹوں کو عہدہ نہ دلانا بھی انھیں بڑی چیز دینا ہے۔ ایسے لوگوں کے بچے خواہ اپنے والد کی زندگی میں ترقی کے درجات تک نہ پہنچیں مگر باپ کے بعد وہ ضرور اعلیٰ ترقیات تک پہنچ کر رہتے ہیں۔ کرامت شیخ صاحب نے بتایا کہ سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک بار علماء کی میٹنگ بلائی۔ اس میں مولانا نورانی بھی تھے۔ وہ پان کھانے کے عادی ہیں۔ ان کے منہ میں پان دیکھ کر ضیاء الحق صاحب نے کہا کہ مولانا، آپ پان کھاتے ہیں، یہ اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ مولانا نورانی نے کہا: آپ خود بھی تو سگریٹ (Dunhill) پیتے ہیں ۔ ضیاء الحق صاحب نے یہ جملہ سننے کے بعد اسی وقت سگریٹ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ اور پھر ساری زندگی کبھی سگریٹ نہیں پیا۔ مسجد بلال (تیو گارڈن ٹاؤن)، بڑی خوب صورت مسجد ہے۔ اس میں امام اور موذن کے لئے رہائش گاہ بھی بنی ہوئی ہے۔ میں نے امام صاحب کی رہائش گاہ کو دیکھا۔ فلیٹ کے انداز کا ایک کشادہ مکان تھا۔ نہایت صاف ستھرا بنا ہوا۔ چپس کا فرش تھا۔ جدید طرز کا باورچی خانہ اور حمام وغیرہ اس کے اندر موجود تھے۔ پانی ، بجلی اور پائپ گیس کے کنکشن بھی تھے۔ بہت سے لوگ ملیں گے جو یہ کہیں گے مسجدوں کے امام حضرات کو معاشرہ کی اصلاح کا کام کرنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader