Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 419

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۴ ستمبر کے اجلاس میں میرا مقالہ تھا۔ کانفرنس کے منتظمین نے اس کا عنوان ”جدید چیلنج اور اسلام“ مقرر کیا تھا۔ اس سیشن کے لئے مجھ کو چیئر مین بھی بنایا گیا تھا۔ مگر میں نے کہا کہ مجھے ” بیک سیٹ “ پر بیٹھنا زیادہ پسند ہے۔ اس لئے آپ چیز مین کسی اور کو مقرر کر دیں۔ میں صرف اپنا مقالہ پیش کر دوں گا اور اس کے بعد جو سوالات ہوں گے ان کا جواب دے دوں گا۔ میرے اصرار پر وہ لوگ راضی ہو گئے۔ چنانچہ میں نے اس اجلاس میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ یہ مقالہ انگریزی میں تھا۔ انشاء اللہ اس کو انگریزی الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ ایک عرب نے اپنی تقریر میں سیکولرزم کی مخالفت کی۔ انھوں نے کہا کہ سیکولرزم کا ترجمہ عربی میں علمانہ کیا جاتا ہے۔ مگر یہ ترجمہ درست نہیں۔ اس کا صحیح ترجمہ لا دینیت ہے۔ سیکولرزم سادہ طور پر فصل الدین عن الدولۃ کا نام نہیں ہے۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب زندگی کے نظام کو غیر دینی بنیاد پر قائم کرنا ہے (المدلول الصحيح للعلمانية هو إقامة الحياة على غير الدين) میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو سیکولرزم کا مقصد مذہب کو رد کرنا (rejection) نہیں ہے بلکہ مذہب کے معاملہ میں ریاست کا غیر جانب داری کی پالیسی کو اپنانا ہے۔ میں نے کہا کہ سیکولرزم کا نظریہ دراصل اس قدیم تصور کی تردید ہے جب کہ ریاست اور مذہب کو ایک دوسرے کے معاملہ میں دخل دینے کا اختیار ہوتا نہ تھا۔ اس اعتبار سے سیکولرزم کی روح وہی ہے جو صلح حدیبیہ کی روح تھی۔ صلح حدیبیہ میں دونوں فریقوں کو اس بات کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے معاملہ میں جنگی مداخلت نہیں کریں گے۔ اسی طرح سیکولرزم کے ذریعہ جدید ریاست نے اپنے آپ کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ مذہبی امور میں غیر جانب دار رہے گا۔ اس نظریہ نے موجودہ زمانہ میں دعوت کے وہ مواقع کھول دئے ہیں جو قدیم زمانہ میں موجود نہ تھے۔ چنانچہ آج دینی کام کے سب سے زیادہ مواقع سیکولر ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔ بالفرض اگر سیکولرزم کا نظریہ اصولی طور پر ہمارے مطابق نہ ہو تب بھی اس کا عملی نتیجہ یقینی طور پر ہمارے حق میں ہے۔ کیوں کہ وہ ہم کو ریاست کے تدخل سے محفوظ رکھ کر دعوتی عمل کے مواقع دیتا ہے۔ اس لئے اگر کسی کو سیکولرزم سے نظریاتی اتفاق نہ ہو تب بھی عقل مندی یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں پیدا شدہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page