Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 422

By Maulana Wahiduddin Khan

کے وقت میں اس کا عام اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس لووین کے اسپورٹ سنٹر کے ہال میں تھا۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ اس اجلاس میں مختلف مذاہب کے منتخب افراد نے اپنے اپنے مذہب کی روشنی میں مندرجہ ذیل موضوع پر اپنا اظہار خیال کیا: Religions and Solidarity among peoples. مجھے اس موقع پر ایک پیپر پڑھنا تھا۔ یہ پیپر انگریزی میں تیار کرکے میں نے پیشگی طور پر کانفرنس کے منتظمین کے پاس بھیج دیا تھا۔ مگر کانفرنس کے منتظمین نے بالکل آخر وقت میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں عربی زبان میں بھی کچھ کہوں۔ کیوں کہ یہاں قابل لحاظ تعداد میں عرب ہیں اور وہ عربی میں سننا پسند کریں گے۔ میرے پاس بمشکل آدھ گھنٹہ کا وقت تھا۔ منتظمین کے اصرار پر میں راضی ہوگیا۔ ڈائس پر جانے سے پہلے میں ہال کے کنارہ کی ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور فوری طور پر دو صفحہ عربی زبان میں لکھا۔ اس کے بعد میں ڈائس پر آیا۔ اپنے وقت پر میں نے پہلے عربی میں خطاب کیا۔ اس کے بعد انگریزی مقالہ پیش کیا۔ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تقریر، نیز اس کے مضمون کی بنا پر لوگ بہت خوش ہوئے ۔ ہندوستان کے جسٹس اچ کھرنا (ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ) نے مجھ کو الگ کرسی پر بیٹھ کر عربی تقریر تیار کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اجتماع کے بعد وہ ملے اور کہا: We are proud to have a scholar like you in India who can deliver an Arabic speech over an international assembly at such a short notice. بہت سے مسلم اور غیر مسلم صاحبان نے خوشی کا اظہار کیا۔ ان میں سے ایک ایسا لفظ صبری کو نشی (مفتی البانیہ) تھے ۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے : Hfz. Sabri Koei, Bashkesia Islamike, Tirane, Albania (Tel. 70223701) انہوں نے عربی تقریر کی ایک کاپی طلب کی اور کہا: فضيلة الشيخ، اننی فهمت من كلماتكم التي القيتم بين الناس أنكم تدعونهم الى الايمان - و فى قلبي وجدت هذا || المعنى من كلماتكم الكريمة -

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page