Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 427

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے بتایا کہ یہاں ایئرپورٹ کے احاطہ میں ایک مسجد بھی ہے۔ یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ انھوں نے ہمارا شوق دیکھ کر ہم کو مسجد تک پہنچایا۔ ہم نے کچھ وقت اس مسجد میں گزارا۔ یہ ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ لمبائی میں وہ دس قدم ہے اور چوڑائی میں سات قدم۔ میں نے یہاں دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے جیسے کمزور آدمی کو ایسے زمانہ میں پیدا کیا جب کہ مذہبی تشدد دنیا سے ختم ہو گیا ہے۔ حتیٰ کہ غیر مسلم حکومت اپنے ہوائی اڈہ کے اندر اپنے مسافروں کی سہولت کے لئے مسجد کی تعمیر کر رہی ہے۔ مسجد میں چند کتابیں تھیں جن میں قرآن کا ایک انگریزی ترجمہ بھی شامل تھا۔ مسجد میں بہت سے مسافر آتے اور جاتے ہوئے نظر آئے۔ ایسا معلوم ہوا کہ چھوٹی ہونے کے باوجود وہ مسافروں کے لئے سکون کی ایک جگہ ہے۔ مسجد میں قیام کے دوران ایک سفید فام تندرست آدمی آئے۔ ان کا سر کھلا تھا۔ وہ نیکر پہنے ہوئے تھے جس میں گھٹنوں سے اوپر تک کا حصہ کھلا ہوا تھا۔ اسی حالت میں وہ نیت باندھ کر کھڑے ہو گئے اور دو رکعت نماز ادا کی۔ وہ لبنانی مسلمان ہیں اور امریکہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنا نام حسین مروّۃ (Hussein Mroiuch) بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ تاجر ہیں۔ پنج وقتہ نماز پڑھتے ہیں۔ گفتگو میں کافی سنجیدہ نظر آئے۔ ایئرپورٹ پر چلتے ہوئے ایک جگہ سگریٹ کا اشتہار نظر آیا۔ یہ ایک مشہور سگریٹ کا خوبصورت اشتہار تھا۔ سگریٹ کے کھلے پیکٹ کے ساتھ سگریٹ کا نام روشن حرفوں میں درج تھا۔ اس کے اوپر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : The taste of success سگریٹ کے نقصانات کو دیکھئے تو یہ برعکس ہند نام زنگی کا فور کا مصداق نظر آئے گا۔ الٹا نام رکھنے کا یہی طریقہ انسانی دنیا میں بھی رائج ہے۔ کہیں تشدد کی تحریک کو پرامن تحریک کہا جاتا ہے۔ کہیں کسی محرّب اعظم کا نام لوگوں نے مفکر اعظم رکھ لیا ہے۔ کہیں ایک استغلاللی منصوبہ کو فلاحی منصوبہ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔ وغیرہ۔ ۱۷ستمبر کو بروسیلز سے لندن کے لئے برٹش ایئروویز کی فلائٹ ۳۹۳ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں برٹش ایئروویز کی میگزین (Highlife) کا شمارہ ستمبر ۱۹۹۲ء دیکھا۔ ۷۰ صفحہ کے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page