Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 433

By Maulana Wahiduddin Khan

مولیشی ۔ اگر تسخیر کا یہ عمل پیشگی طور پر نہ کر دیا گیا ہوتا تو انسان کے لئے زمین پر زندہ رہنا یا تمدن کی تعمیر کرنا ممکن نہ ہوتا۔ وگن کے قیام کے دوران میری ملاقاتیں صرف عرب نوجوانوں سے یا کچھ انگریزینہ وں سے ہوئیں ۔ یہ عرب نوجوان یہاں غیر مسلموں میں دعوتی کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ خاص اسی مقصد کے لئے یہاں آ کر مقیم ہوئے ہیں۔ وہ الرسالہ انگریزی لوگوں کو پڑھنے کے لئے دیتے ہیں۔ اور ہمارے یہاں کی انگریزی مطبوعات منگو آ کر اس کو پھیلا رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ الرسالہ کے دعوتی مضامین چھوٹے چھوٹے پمفلٹ کی صورت میں چھپوا کر مفت تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ایک خاموش دعوتی عمل ہے جس میں وہ لوگ رات دن مصروف رہتے ہیں۔ ان عرب نوجوانوں نے انگریزی زبان بخوبی سیکھ لی ہے ۔ اب ان کا خیال ہے کہ ان میں سے ہر شخص کسی اور یورپی زبان کو کم از کم بقدر ضرورت سیکھے تاکہ وسیع تر دعوتی روابط قائم کرنے میں سہولت ہو۔ باہمی مشورہ سے طے ہوا کہ آپ لوگ کم از کم فی الحال اپنا کوئی الگ ادارہ قائم کرنے کی کوشش نہ کریں۔ بلکہ جو مسلم ادارے برطانیہ میں قائم ہو چکے ہیں یا پہلے سے کام کر رہے ہیں، ان سے جڑ کر اپنا مثبت کام جاری رکھیں ۔ ایک مجلس میں کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے لوگ بھڑکتے ہیں۔ آپ کو تنقید چھوڑ دینا چاہئے تاکہ لوگ آپ کے قریب آسکیں۔ میں نے کہا کہ تنقید پر جبرڈ نا، ایک قسم کا ذہنی نقص ہے جس کو علماء نفسیات دو قسمی طرز فکر (dichotomous thinking) کہتے ہیں۔ ایسا آدمی چیزوں کو صرف دو قسم میں رکھ کر سوچ پاتا ہے۔ وہ کسی تیسری قسم کو نہیں جانتا۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب اس کے اکابر پر تنقید کی جائے تو وہ بگڑ جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ تنقید اس کے اکابر کو ڈسکر یڈٹ کر رہی ہے۔ وہ یا تو بے تنقید حالت کو جانتا ہے یا با تنقید حالت کو ۔ وہ سمجھتا ہے کہ جس آدمی پر تنقید کی جارہی ہے وہ غلط انسان ہے اور جس آدمی پر تنقید نہ کی جائے وہ صحیح انسان ۔ حالاں کہ یہاں ایک تیسری حالت بھی ہے جس کو حدیث میں اجتہادی خطا کی حالت بتایا گیا ہے۔ یعنی آدمی بذات خود صحیح اور قابل قدر ہو مگر کسی معاملہ میں اس سے اجتہادی غلطی ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page