Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 435

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا۔ باہر کے ایک بورڈ سے معلوم ہوا کہ نئی مسجد کی تعمیر کے لئے رقم کی فراہمی جاری ہے۔ مسجد کا وضو خانہ جدید اور صاف ستھر انظر آیا۔ امام صاحب نے انگریزی میں خطبہ دیا۔ دو خطبوں میں کچھ عربی کلمات کے ساتھ انہوں نے انگریزی میں تقریر کی۔ تقریر کا مضمون آخری حد تک روایتی تھا۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ ان کی دونوں تقریروں سے حاضرین کو کوئی سبق کی بات لے کر گئے ہوں ۔ کیوں کہ سبق کی کوئی بات سرے سے تقریر میں موجود تھی ہی نہیں۔ تقریر کے دوران وہ بار بار " اور پرافٹ صلی اللہ علیہ وسلم" کا لفظ بول رہے تھے۔ یہی تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ اللہ نے اپنے آخری رسول کو سارے عالم کا پیغمبر بن کر بھیجا تھا۔ مگر مسلمانوں نے اس کو اپنا پیغمبر بنا دیا۔ کیوں کہ جیسا کہ خطیب نے کہا، مسلمان پیغمبر کو اپنا پرائیڈ سمجھتے ہیں ۔ اور پرائیڈ کی نفسیات کی تسکین کے لئے ضروری ہے کہ اس کو اپنے پیغمبر کی حیثیت سے پیش کیا جائے ۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ دور زوال میں جو خر ابیاں پیدا ہوئیں ان میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ ہمارے علماء، قرآن وحدیث کو فروعی باتوں پر منطبق کرنا جانتے ہیں مگر وہ ان کو اساسی امور پر منطبق کرنا نہیں جانتے۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ من احدث فی امرنا هذا ما ليس منہ فهو رد ۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ مونچھ کو تراشوا اور داڑھی کو بڑھاؤ (اعفو اللحی وقصوا الشوارب)، اب اگر کوئی شخص کہے کہ داڑھی کو تراشوا اور مونچھ کو بڑھاؤ تو علماء فوراً کہیں گے کہ یہ بدعت ہے۔ مگر زیادہ سے بڑے بڑے اور اساسی مسائل میں وہ خود احداث (بدعت) میں مبتلا رہتے ہیں اور انھیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ مانچسٹر میں ایک دیندار سلمان سے ملاقات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران " یونی پولر ورلڈ" کا تذکرہ ہوا۔ انھوں نے غصہ اور تشویش کے انداز میں کہا کہ جارج بش نے کہا ہے کہ اب کسی ملک میں پر یزیڈنٹ یا پرائم منسٹر ہماری مرضی کے بغیر نہیں بن سکتا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کے عزائم کتنے خطر ناک ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ ماشا اللہ دین دار ہیں۔ یقیناً آپ روزانہ قرآن کی تلاوت کرتے ہونگے۔ کیا آپ نے قرآن میں یہ آیت نہیں پڑھی: قل اللهم مالك الملك تؤتى الملك

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page