Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 437

By Maulana Wahiduddin Khan

it almost seems to suggest that the door may be unlocked, if only we could find the handle. (p. 216) مصنف نے مزید لکھا ہے کہ اگر جدید معلومات کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ مادہ پرستی کے نظریہ کی نئی سائنسی معلومات کی روشنی میں از سر نو تشریح کرنے کی ضرورت ہے : materialism need to be redefined in the light of our new scientific knowledge. (p. 216). میں نے اس کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ ۴۲ - ۱۹۴۱ میں ہمارے رہنما جس وقت انگریز کو نفرت اور عداوت کا موضوع بنا کر اس سے لڑارہے تھے، عین اسی وقت انگریز کا علم اس کو اس مقام پر پہنچارہا تھا کہ سائنس اور مادی تہذیب اپنی ساری ترقیوں کے باوجود نا کافی ہے۔ لمبا علمی سفر طے کرنے کے بعد وہ جہاں پہنچا ہے وہاں اس کو دکھائی دے رہا ہے کہ سامنے کا دروازہ بند ہے، اور اس کو کھولنے کے لئے جو ہینڈل درکار ہے وہ اس کو حاصل نہیں۔ یہ "ہینڈل" خوش قسمتی سے قرآن کی صورت میں ہمارے پاس تھا۔ اور مغربی طرز کی مادیت کے مقابلہ میں زیادہ صحیح دنیاوی نقطہ نظر بھی قرآن و سنت کی صورت میں ہمارے پاس موجود تھا۔ مگر دعوتی ذہن کی غیر موجودگی کی بنا پر ہمارے رہنما اس امکان کو دریافت نہ کر سکے۔ وہ انگریزوں کو صرف دشمن کے روپ میں دیکھتے رہے، حالاں کہ امکانی طور پر وہ دوست اور رفیق کی حیثیت رکھتا تھا۔ ۷ ستمبر کو میں وگن کے مکان میں تھا۔ صاحب بیت نے ایک اخبار لا کر دیا۔ اس کا نام وگن رپورٹر (Wigan Reporter) تھا ۔ اور وہ ۸۰ صفحہ پر مشتمل تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ ہفتہ وار اخبار ہے اور لوگوں کے درمیان بلا قیمت تقسیم کیا جاتا ہے ۔ ضمیمہ اخبار اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہاں زندگی کا طریقہ کیا ہے ۔ یہ " اخبار" کے نام پر اشتہار کو گھر گھر پہنچانے کی ایک تدبیر ہے۔ مگر شاید ہی کوئی شخص ہو جو اول سے آخر تک اسے دیکھتا ہو۔ برطانیہ سے قرآن کا ایک انگریزی ترجمہ چھپا ہے۔ اس کا ایک نسخہ میں نے دیکھا۔ متن کے بغیر وہ ۵۰۵ صفحات پر مشتمل ہے۔ مترجم کی حیثیت سے اس پر دو نام لکھے ہوئے تھے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page