Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمان امت کو ایک سازش کے تحت پچاس قوموں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اس وقت او لین ضرورت اس امر کی ہے کہ دربان، علاقہ، برادری، فرقوں میں منتشر اس امت کو مجتمع کرکے ایک قوت بنایا جائے“۔ اسی طرح جماعت اسلامی کے دوسرے رہنماؤں، چودھری رحمت الہی اور پروفیسر غفور احمد نے پاکستان کے موجودہ حالات کی نہایت تاریک تصویر پیش کی۔ میں نے جماعت اسلامی کے ایک صاحب سے کہا کہ آپ لوگ سید ابوالاعلی مودودی کو عہد ساز شخصیت کہتے ہیں، پھر جو عہد انہوں نے بنایا ہے، وہ کہاں ہے۔ وہ نہ ہندوستان میں نظر آتا اور نہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں۔ نہ کسی دوسرے چھوٹے یا بڑے مقام پر۔ اگر آپ کسی ایسے مقام کا پتہ بتائیں جہاں یہ عہد سازی ہوئی ہے تو میں وہاں پہنچ کر اس کو دیکھوں گا۔ مگر وہ کسی ایسے مقام کا نام نہ لے سکے۔ قدیم زمانہ کے لوگ اپنے بادشاہوں کی تعریف میں مبالغہ آمیز اشعار کہا کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے مفروضہ اکابر کی شان میں اسی قسم کی شاعرانہ لفظی کر رہے ہیں۔ یہ ذوق سب سے زیادہ ان دو ملکوں میں ہے جس کا نام ہندوستان اور پاکستان ہے۔ پاکستانی اخبارات میں ہندوستان کے فساد کی خبریں تھیں۔ ان میں اس قسم کی سرخیاں نظر پڑیں ـــ بھارت میں مسلم کشی، بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام ۔ ان سرخیوں کو پڑھ کر ہندوستان کے بارہ میں عجیب خونیں تصور قائم ہوا۔ شبہ ہوا کہ دہلی ایئر پورٹ پر اترنے کے بعد میں زندہ گھر پہنچوں گا یا میری لاش گھر لے جائی جائے گی۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ مبالغہ اور تعمیم کی بات تھی ۔ بدقسمتی سے دونوں ملکوں میں یہی غیر معتدل صورت حال قائم ہے۔ ہندوستان کے اخبارات پاکستان کے بارہ میں اسی قسم کی مبالغہ آمیز خبریں شائع کرتے ہیں۔ اور پاکستان کے اخبارات ہندوستان کے بارہ میں اسی طرح مبالغہ اور تعمیم کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ اس ناگوار صورت حال کو ختم کرنے کی صورت صرف ایک ہے۔ دونوں میں سے کوئی ایک ملک یک طرفہ طور پر اسے ختم کر دے۔ اس کے بعد دوسرے ملک میں اپنے آپ اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کراچی سے دہلی کا سفر پی آئی اے کے ذریعہ طے ہوا۔ اور میں ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ کی رات کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page