Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 476

By Maulana Wahiduddin Khan

سے دیکھا ہے۔ میرے نزدیک اس کا بنیادی سبب ایجوکیشن ہے۔ The educational achievements of Japanese workers at all levels are unmatched in the world. ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی تحریروں میں اختلاف رائے اور تنقید بہت ہوتی ہے۔ یہاں کے کچھ لوگ کہنے لگے ہیں کہ آپ کو تنقید کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بے بنیاد الزام ہے۔ آپ کسی بھی مہینے کے الرسالہ کو اٹھا کر دیکھیے اور ہر مضمون کو پڑھ کر پتہ کیجئے کہ اس میں اختلاف رائے والا پہلو کتنا ہے۔ آپ پائیں گے کہ کسی پرچہ میں سرے سے ایسا کوئی مضمون نہ ہوگا اور کسی میں ہوگا بھی تو صرف ایک یا دو فیصد۔ پھر میں نے کہا کہ اصل مسئلہ اختلاف رائے نہیں ہے۔ اصل مسئلہ لوگوں کی غیر ضروری حساسیت ہے ۔ صحابہ کے زمانہ سے لے کر ہر اگلے دور تک علماء کے درمیان اختلاف ہوتا تھا مگر کبھی کسی نے اختلاف کو برا نہیں بتایا۔ مثلاً امام محمد اور امام ابو یوسف دونوں امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے ۔ دونوں نے امام ابو حنیفہ کی رایوں سے ۸۲ معاملہ میں اختلاف کیا ہے۔ مگر اس کو کبھی کسی نے برا نہیں مانا۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف رائے یا علمی و فکری تبصرہ قوموں کی زندگی ہے۔ اس کو اسلام میں اتنا زیادہ جگہ دی گئی ہے کہ آدم کی پیدائش کی کہانی کا ایک جزو جو بالکل میں حذف ہو گیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں درج فرمایا۔ یہ خود اللہ تعالی سے فرشتوں کا یہ کہنا تھا کہ اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدماء (البقرة ۳۰) ایک صاحب نے تنہائی میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ جب کمرہ کے اندر تنہا ملاقات ہوئی تو وہ اپنے گھریلو حالات بتاتے ہوئے رونے لگے۔ یہاں بہت سے لوگ ہیں جو بظاہر دیکھنے میں ٹھیک معلوم ہوں گے لیکن اگر تحقیق کیجئے تو معلوم ہوگا کہ لوگ سخت الجھنوں میں مبتلا ہیں۔ کہیں باپ اور بیٹے کے درمیان کش مکش ، کہیں شوہر اور بیوی کے تعلقات میں بگاڑ ، کہیں ساس اور بہو کے درمیان جھگڑا۔ اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ مسلمانوں میں اتنی شدت کے ساتھ ان مسائل کے پیدا ہونے کا کم از کم ایک سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کی جدید نسلوں کو دو سو برس سے صرف ایک ہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page