Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 480

By Maulana Wahiduddin Khan

لندن کے چرچ کے گھنٹے تھے۔ سو سال پہلے صبح کے وقت سب سے زیادہ عام آواز یہاں کے چرچ کے گھنٹوں کی آوازیں تھیں۔ مگر صنعتی دور نے حالات میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دی۔ اب عبادت خانوں کی اہمیت گھٹ گئی اور اس کے بجائے مشینوں کی اہمیت زیادہ ہوگئی۔ لندن میں چھوٹی بڑی تقریباً ۷۰ مسجدیں ہیں۔ میری قیام گاہ کے قریب ایک مسجد تھی۔ اس سے بالکل متصل ایک مکان تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ مکان ایک انگریز کا تھا۔ وہ مکان بیچنا چاہتا تھا۔ کئی انگریز اس کو خریدنے کے لئے آئے۔ انھیں میں سے ایک مسلمان بھی تھا جو مسجد کی توسیع کے لئے اس مکان کو خریدنا چاہتا تھا۔ انگریز نے اپنے ہم قوموں کو مکان نہیں دیا۔ اس نے اپنا مکان مسجد والوں کو دے دیا اور کہا کہ آپ لوگ اس کو مسجد میں شامل کرکے مسجد کی توسیع کریں۔ یہ میرے لئے زیادہ خوشی کی بات ہے کہ میرا مکان آئندہ ایک عبادت خانہ کا حصہ بن جائے۔ میں نے خود جا کر اس مسجد اور اس مکان کو دیکھا۔ لندن میں مجھے بون (جرمنی) سے مسٹر فاروق جنگ کا ٹیلی فون ملا۔ انھوں نے پہلے ہی سے اس سفر میں مجھے جرمنی آنے کی دعوت دی تھی۔ انھوں نے یہ انتظام کیا تھا کہ برو سیلز سے بذریعہ کار مجھ کو بون لے جائیں۔ مگر بعض وجوہ سے میں ایسا نہ کر سکا۔ ذاتی طور پر میں جرمنی جانے کا خواہشمند تھا۔ خاص طور پر میں برلن وال کو دیکھنا چاہتا تھا۔ جواب ٹوٹ کر ختم ہو چکی ہے۔ برلن وال ایک سومیل لمبی تھی جو مشرقی برلن کو مغربی برلن سے جدا کرتی تھی۔ سیمنٹ کنکریٹ سے سابق سوویت یونین کے زیر حکم بنائی گئی تھی۔ ونٹن چرچل نے اس کو آہنی پردہ (Iron Curtain) کا نام دیا تھا دیا۔ برلن وال اگست ۱۹۶۱ میں بنائی گئی تھی۔ اس کا خاص مقصد یہ تھا کہ مشرقی جرمنی سے بھاگ کر مغربی جرمنی میں داخل ہونے والوں کو روکا جائے : It was built in August 1961, mainly with the aim to contain the massive exodus of East Germans to the West. مگر ۹ نومبر ۱۹۸۹ کی رات کو برلن وال ہمیشہ کے لئے توڑ دی گئی حتیٰ کہ مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کی تقسیم بھی ختم ہو گئی۔ دونوں مل کر ایک ملک بن گئے اور ایک حصہ کے لوگوں کے لئے دوسرے حصہ کی طرف جانے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page