Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 487

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ وقت آیا جب میکسیکو، پیرو اور دوسرے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد جہاز سونا اور چاندی لے کر اسپین آنے لگے : تاریخ کا یہ صفحہ مجھے اس وقت یاد آ یا جب میں نے دیکھا کہ آج یورپ میں ساری اہمیت امریکہ کے لئے ہے۔ جدید یورپ میں انڈیا یا کسی بھی اعتبار سے کوئی مقام حاصل نہیں۔ لندن کا روز نامہ دی سنڈے ٹیلی گراف (۲۷ ستمبر ۱۹۹۲) دیکھا۔ اس کے صفحہ 1 پر ایک مضمون تھا۔ اس کا لکھنے والا راجر کوپر (Roger Cooper) تھا۔ جو پانچ سال سے زیادہ مدت تک ایران کی قید میں رہ چکا ہے۔ اس نے برائن کینان کی کتاب کا تعارف کرایا تھا۔ کینان ایک آئرش ہے۔ وہ بھی لبنان کے ایران نواز مسلمانوں کی قید میں رہا ہے۔ اور اس سے رہائی کے بعد اپنی یاد داشت لکھ کر شائع کی ہے : کینان پیشہ کے اعتبار سے ہیٹنگ انجینئر ہے۔ بیروت میں اس کو آفس کے راستہ سے اغوا کر لیا گیا۔ اس کے بعد وہ، کتاب کے مطابق، مسلم کیپٹرز کے ہاتھوں انسانی درندگی کا تجربہ کرتا رہا۔ اس مضمون کا عنوان تھا ــــ جہنم کی طرف سفر اور اس سے واپسی : میں نے اس کو پڑھ کر کہا کہ یہ نام نہاد اسلام پسند اگر اس قسم کے مسلمان ہوتے جیسا کہ دور نبوت میں مدینہ کے مسلمان تھے تو قیدیوں کا بیان اس کے برعکس ہوتا۔ ایسی حالت میں یہ قیدی وہاں سے واپس آنے کے بعد کہتے کہ ہم تو ان کے یہاں گویا جنت میں تھے، اب ہم اپنے ملک میں واپس آئے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی جہنم میں پہنچ گئے ہیں۔ ۲۸ ستمبر کو ظہر کی نماز تانکا مسجد ابی بکر الصدیق (شارع عبد العزیز) میں پڑھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page