ایک سفر
Urdu book, p. 497
By Maulana Wahiduddin Khan
لو دخلو اجحرضب دخلتموہ۔ اس حدیث کی تشریح کو تعویذ اور عملیات جیسے اعمال پر تو چسپاں کیا جاتا ہے۔ مگر ان کو زیادہ اہم امور پر چسپاں نہیں کیا جاتا۔ مثلاً قدیم زمانہ میں دوسری قوموں نے یہود کے اوپر سخت معاملہ کیا۔ یہود اگر ان سختیوں کو خدائی تنبیہہ سمجھتے تو ان کے اندر تضرع اور رجوع کی کیفیت پیدا ہوتی۔ مگر انہوں نے ان متشددانہ واقعات کو دوسری قوموں کی عداوت اور مخالفانہ سازش قرار دیا۔ اس کے نتیجہ میں ان کی قساوت اور تمرد میں اضافہ ہو گیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ جو کچھ کر رہا ہے وہ اسی سنت یہود کا اتباع ہے، غیر مسلم قوموں کی طرف سے پیش آنے والے شدائد کو وہ اسلام دشمنوں کی سازش قرار دینے میں مصروف ہیں۔ اگر وہ ان شدائد کو تنبیہہ خدا وندی سمجھتے تو ان کے اندر انابت اور رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوتی لیکن جب انہوں نے اس کو مؤامرۃ (سازش) بتایا تو اس سے انہیں قساوت اور سرکشی کے سوا کوئی اور غذا حاصل نہ ہو سکی۔ ۳ ستمبر کی شام کو قاہرہ سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ لمبے سفر کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے آج میں آخری منزل طرف جا رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوا کہ اسی طرح ہر آدمی اپنے دنیوی مراحل حیات کو طے کر کے آخرت کی طرف روانہ ہوتا ہے جہاں وہ اپنے ابدی مقام کا تجربہ کر سکے۔ یہ احساسات دعا کی صورت میں ڈھلنا چاہتے تھے مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ مجھے دعا کے لئے الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔ مجھے اپنے بھائی کا قصہ یاد آیا۔ وہ ایک ہندو کالج میں بی ایس سی کے داخلہ کے لئے گئے۔ مگر وہ دو مہینہ لیٹ ہو چکے تھے۔ پرنسپل نے کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ داخلہ دو مہینے پہلے بند ہو چکا ہے۔ مگر مزید سوال و جواب کے بعد وہ ان کے لئے ہمدرد بن گیا۔ اس نے فارم منگوایا اور کہا کہ اس کو پر کرو۔ پھر اس کو محسوس ہوا کہ بیک ڈیٹ میں فارم بھرنا شاید ان کے لئے مشکل ہوگا، اس لئے فارم ان کے ہاتھ سے لے کر پرنسپل نے خود اس کو پر کیا اور ان کو داخلہ دے دیا۔ میں نے کہا کہ خدا یا، میں آپ کا وہ عاجز بندہ ہوں جس کے پاس دعا کے الفاظ بھی نہیں ہیں۔ آپ خود ہی میری طرف سے دعا کے الفاظ متعین کر کے اس کی قبولیت کا فیصلہ فرما دیجئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader