Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 499

By Maulana Wahiduddin Khan

میں بھی اپنے بندوں کو اپنی عبادت کی سمت سے آگاہ کر دے۔ ساڑھے چار گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہاز دوبئی میں اترا۔ یہاں چار گھنٹہ کے انتظار کے بعد دہلی کے لئے جہاز لینا تھا۔ دوبئی کا ہوائی اڈہ اور یہاں کی ہر چیز انٹرنیشنل معیار کے مطابق نظر آئی۔ البتہ یورپ کے ملکوں کے ہوائی اڈوں پر انسانوں کی بھیڑ بہت کم ہوتی ہے، جب کہ دبئی کے ہوائی اڈہ پر ہر طرف انسانوں کی بھیڑ نظر آئی۔ یہ ایک مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے۔ یہاں سے روزانہ تقریباً ساڑھےاسو ہوائی جہاز اڑتے ہیں اور وہ دنیا کے تقریباً ایک سو ملکوں میں اترتے ہیں۔ دہئی کے ہوائی اڈہ پر ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ وہاں پہنچ کر نماز پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ مسجد کے باہر عربی میں أماكن الصلاة اور انگریزی میں (Prayer Room) لکھا ہوا تھا۔ مسجد اللہ کے بندوں کے لئے امن ہے۔ اس کے اندر داخل ہو کر ایک خاص طرح کا سکون حاصل ہوتا ہے۔ مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ وہ اہل ایمان کے لئے روحانی پناہ گاہ بھی ہے۔ میں نے سوچا کہ دنیا کے ہر ملک میں اور ہر شہر میں کثرت سے مساجد کی موجودگی مسلمانوں کے لئے ایک غیر معمولی ایڈوانٹج کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ یہ کہ وہ اسلامی تحریک کو مساجد کی بنیاد پر اٹھائیں، اور پھر دنیا کے ہر گوشہ میں اپنے لئے بنا بنایا مرکز عمل پالیں۔ دبئی سے دہلی کے لئے الامارات (Emirates) کی فلائٹ نمبر ۔۔ ۷ کے ذریعہ روانگی ہوئی ۔ ہم ساڑھے گیارہ بجے رات کو دہلی اترے۔ اس وقت کیلنڈر میں ستمبر کی ۳۰ تاریخ تھی۔ مگر یہاں چار گھنٹہ قیام کے بعد جب اگلے جہاز پر بیٹھے تو اکتوبر ۱۹۹۲ء کی پہلی تاریخ آچکی تھی ۔ وقت کتنی تیزی سے گزر رہا ہے۔ مگر انسان کتنا کم اس کا اندازہ کرتا ہے۔ راستہ میں قاہرہ کا روزنامہ الاخبار (۳۰ اکتوبر ۱۹۹۲ء) پڑھا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان تھا : دعاة ا للحرب الصليبية ... ماذا يريدون ۔ اس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا تھا کہ اور اب، مذہبی جنگ کے مبلغین کا نشانہ کیا ہے، جو کہ نقارہ بجارہے ہیں اور لوگوں کو صلیبی جنگ کے نام پر جمع کر رہے ہیں (والآن۔ ماهي اهداف دعاة الحرب الدينية والذين يدقون الطبول الآن ويجمعون الناس حول شعار الحرب الصليبية)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page