Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 504

By Maulana Wahiduddin Khan

بول رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ تبتی زبان۔ مزید گفت گو سے معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک تبتی ہے اور دوسرا بھوٹانی۔ دونوں کا تعلق بدھ مذہب سے تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ دلائی لامہ کو ریفیجز ہیڈ سمجھتے ہیں یا گارڈ۔ مسٹروانگچوک (Jigme Wangchuk) نے جواب دیا : He is everything for us. (وہ ہمارے لئے سب کچھ ہیں) یہ لوگ دلائی لامہ کو خدا کی طرح مقدس سمجھتے ہیں۔ موجودہ دلائی لامہ چودھویں دلائی لامہ ہیں۔ ۱۹۵۰ء میں وہ تبت میں روحانی اور دنیوی حاکم مقرر ہوئے۔ مگر تبت پر چینی قبضہ کے خلاف ناکام بغاوات کے بعد ۱۹۵۹ء میں وہ بھاگ کر انڈیا آگئے۔ تاہم تبتیوں کی نظر میں ان کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ دہلی ایرپورٹ پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ مسلم عورتوں کے پچھڑے پن کی بات کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک چلی ہوئی بات ہے جس کو لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے ہیں۔ ورنہ آج مسلم خواتین کا تعلیمی معیار چالیس سال پہلے کے مقابلہ میں بہت بڑھ چکا ہے۔ اتفاق سے میرے پاس آج کا ٹائمز آف انڈیا (۲۲ دسمبر) تھا۔ اس کے درمیانی صفحہ پر ایک رپورٹ مسلم خواتین کی تعلیمی حالت کے بارہ میں چھپی ہوئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ آج مسلم خواتین تعلیم کے میدان میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مثال کے طور پر اس میں بتایا گیا تھا کہ حال میں پٹنہ کی ایک لڑکی بہار پبلک سروس کمیشن کے انٹرویو میں شریک ہوئی۔ یہ انٹرویو آیور ویدک سسٹم کی ایک پوسٹ کے بارے میں تھا۔ مسلم خاتون نے مقابلہ میں ٹاپ کیا۔ اس نے دیدوں کے اشلوک اتنی روانی کے ساتھ سنائے کہ انٹرویو لینے والے ماہرین حیرت زدہ رہ گئے : A Muslim girl from Patna appeared for the Bihar Public Service Commission examination for a post in Ayurvedic system and topped the list. All the examiners which included Ayurvedic experts judged her to be the best candidate. She could, with great fluency, cite vedic slokas which surprised everyone. میں نے کہا کہ پچھلے پچاس سال کے دوران نااہل مسلم لیڈروں نے مسائل کی اتنی رٹ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page