ایک سفر
Urdu book, p. 506
By Maulana Wahiduddin Khan
(god of quality control) کہتے ہیں۔ اعتراف کا یہ مزاج کسی بھی ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ جاپانی اگر اپنے آپ میں گم رہتے، وہ باہر سے نئی چیز لینے کی کوشش نہ کرتے تو وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتے تھے۔ جاپانیوں کے اسی مزاج کا نتیجہ ہے کہ فیکس کا طریقہ امریکہ میں دریافت ہوا مگر اس کو سب سے پہلے مارکیٹ میں لانے والے جاپانی تھے۔ جس وقت ہمارا جہاز یورپ کے اوپر سے پرواز کر رہا تھا، مجھے یاد آیا کہ یہی وہ سرزمین ہے جس کے بارہ میں مسلم دنیا میں روز سازش اور ظلم کی داستانیں چھپتی رہتی ہیں۔ مثلاً موجودہ سفر پر روانگی سے پہلے میں نے ایک پاکستانی اخبار نوائے وقت ۳ دسمبر (۹۳) میں ایک رپورٹ پڑھی اس کا عنوان تھا " مغرب کا مسلم دشمن رویہ۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ سارا عیسی یورپ مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرا ہوا ہے۔ مسلم دشمنی یورپ کی رگ رگ میں سرایت کر چکی ہے۔ اس سلسلہ میں کہا گیا تھا: مغربی عیسائیوں میں یہ رجحان واضح ہے کہ یورپ میں کوئی مسلمان مملکت نہ ہو۔ اس پس منظر میں جب یورپ کے عین قلب میں بوسنیا کی مسلم ملکست ابھری تو سرب عیسائی اس پر چڑھ دوڑے اور مغربی ممالک نے ہر ممکن طریقے سے ان کی مدد کی تاکہ عین یورپ میں واقع اس مسلم مملکت سے چھٹکارا حاصل ہو۔ یورپ اور امریکہ نے اپنے سیکولرزم کے تمام بلند بانگ نعروں کے باوجود بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام نہیں روکا۔ بلکہ بوسنیا کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کر کے اس قتل عام کو سہل بنا دیا تاکہ بنتے مسلمان کسی مزاحمت کے قابل ہی نہ رہیں (صفحه ۶) آجکل تمام مسلم دانشور بوسنیا کے معاملہ کو اس طرح پیش کر رہے ہیں گویا کہ وہ یورپ کی مسلم دشمنی کی یقینی علامت ہے، حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ بوسنیا خود نام نہاد مسلم دانشوروں اور نا اہل مسلم رہنماؤں کی اپنی نادانی کی عبرت ناک مثال ہے۔ بوسنیا اور اس طرح کے دوسرے مقامات میں جو کچھ پیش آیا وہ در اصل شریعت کے اصول ترك المصلحة للمفسدة کی خلاف ورزی کا نتیجہ تھا۔ اس شرعی اصول کا مطلب یہ ہے کہ ہر اس اقدام سے پر ہیز کیا جائے جو نتیجہ کے اعتبار سے الٹا (counter-productive)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader