ایک سفر
Urdu book, p. 508
By Maulana Wahiduddin Khan
ساری معلومات حاصل کیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا تو اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں، میں بھی کہیں نو وارد ہوں گا اور وہاں کوئی شخص اسی طرح میری مدد کرے گا۔ اس نے اپنا نام کلاؤس بتایا۔ اس سفر میں اپنے عجز کا احساس بہت زیادہ غالب رہا۔ ۲ دسمبر کی دوپہر کو جبکہ میں نیویارک ائیر پورٹ پر بیٹھا ہوا تھا، غیر معمولی احساس عجز کے تحت یہ شعر سیدھی زبان پر آگیا: نہ گلے نے برگ سبزے نہ ثمر نہ سایہ دارم در حیرتم کہ دہقاں بچہر کاشت مارا نیو یارک ہی میں 1959ء میں ترکوں اور قبرص کے عیسائیوں کے درمیان وہ معاہدہ ہوا جس کو زیورک معاہدہ (Zurich Agreement) کہا جاتا ہے۔ عثمانی ترکوں نے ۱۵۷۱ء میں قبرص کو فتح کیا تھا۔ ۱۹۱۴ء میں وہ برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب برطانیہ کی طاقت کمزور ہوئی تو قبرص کے یونانیوں اور ترکوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا۔ ترک مسلمان قبرص کی تقسیم چاہتے تھے تاکہ مشرقی قبرص کے مسلم اکثریتی علاقہ کو علیحدہ ملک بنایا جاسکے۔ لمبے خونیں ٹکڑاؤ کے بعد آخر کار برطانیہ کے دباؤ کے تحت مذکورہ زیورک معاہدہ ہوا۔ اگرچہ اس کے بعد بھی امن قائم نہ ہو سکا۔ پر تشدد ٹکراؤ کے نتیجہ میں ترکوں نے بہت سی ملی ہوئی چیزیں بھی کھو دیں۔ اور اپنا سیاسی مقصود بھی حاصل نہ کر سکے ۔ ۲۳ دسمبر کی سہ پہر کو زیورک سے لاس اینجلس کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر سوئس ایئر کی فلائٹ ۱۰۶ کے ذریعہ طے ہوا۔ راستہ میں روزنامہ فناننشل ٹائمنس (۲۳ دسمبر) کا مطالعہ کیا۔ ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ ساؤتھ افریقہ کی آخری سفید فام پارلیمنٹ نے ۴۵ کے مقابلہ میں ۲۳۷ ووٹوں سے فیصلہ کیا کہ ایک عارضی دستور بنایا جائے جو اکثریت کی حکومت کی بنیاد پر ہو اور اپریل ۱۹۹۲ء میں تمام نسلوں کی شرکت کے ساتھ الیکشن کرایا جائے۔ South Africa's last white parliament voted by 237 to 45 to adopt an interim constitution leading to majority rule after all-race elections next April. ساؤتھ افریقہ کے اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے ۔ ساؤتھ افریقہ میں سفید فام لوگوں نے اپنی حکومت قائم کر رکھی تھی۔ سیاہ فام لوگوں کو ہر قسم کے حقوق سے محروم کئے ہوئے تھے۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader