ایک سفر
Urdu book, p. 510
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب سید بشیر شاہ آگئے ۔ دریافت حال کے بعد وہ مجھ کو گیٹ بی کی طرف لے گئے۔ وہاں دو صاحبان میرے انتظار میں موجود تھے۔ ائیر پورٹ سے ڈاکٹر سلمان ندوی اور عبد الحمید سمیجی صاحب کے ساتھ روانگی ہوئی۔ راستہ میں دونوں صاحبان سے گفتگو ہوتی رہی۔ ڈاکٹر سلمان ندوی ساؤتھ افریقہ کی ایک یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کا اپنے سابقہ موقف سے ہٹ کر فلسطینیوں سے صلح کرنا اور ساؤتھ افریقہ میں سفید فام لوگوں کا سیاہ فام لوگوں کو یکساں سیاسی حقوق دینا، دونوں کے پیچھے تشدد کا زور کا مر کر رہا ہے۔ اسرائیل انتفاضہ کی سر گرمیوں سے جھکا ہے اور ساؤتھ افریقہ میں جب بم پھٹنے لگے تو ان لوگوں کو جھکنا پڑا۔ تاہم ہم اس سوچ سے اتفاق نہ کر سکا۔ عبد الحمید سمیجی صاحب نے بتایا کہ آرنج کاؤنٹی میں ایشین ۵ فیصد ہیں۔ مگر یہاں کی یونیورسٹی میں ایشیائی طلبہ کی تعداد ۳۵ فیصد ہے۔ یہی حال امریکہ کی اکثر یونیورسٹیوں کا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ کی سب سے زیادہ پریٹیجس یونیورسٹی ہارورڈ میں وہاں کے ۲۰ ہزار طلبہ میں ایشیائی کافی ہیں۔ گیارہ سو کے اسٹاف میں ایک سواشیائی استاد ہیں۔ خود ان کے بھی دو لڑکے وہاں پڑھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں انتہائی سخت ڈسپلن ہے۔ مثلاً استاد، طلبہ یا کارکن کے سوا کوئی وہاں داخل نہیں ہو سکتا۔ حتی کہ والدین بھی نہیں۔ وہاں صرف آٹیڈ نیٹی کارڈ پر کیمپس میں داخلہ ہوتا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں لائبریریاں ۴۲ گھنٹہ کھلی رہتی ہیں۔ اور طلبہ کثرت سے اس میں مطالعہ کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ لائبریری میں فاصل بات تو درکنار، کوئی شخص زور سے بول بھی نہیں سکتا۔ حال میں اسلام کے مطالعہ کے لئے ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک اسلامک ریسرچ کا شعبہ قائم ہوا ہے، اس شعبہ کو شاہ فہد کی طرف سے پانچ ملین ڈالر کا عطیہ دیا گیا ہے۔ یہاں میرا قیام جناب صغیر اسلم صاحب (پریذیڈنٹ اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی) کے مکان پر تھا۔ میں ان کے یہاں پہنچا تو مغرب بعد کا وقت ہو چکا تھا۔ اتفاق سے اسی وقت جناب تشبیہہ سید اور ان کے ایک ساتھی آگئے ۔ ان لوگوں سے دیر تک بات ہوتی رہی۔ تشبیہہ سید صاحب نے بتایا کہ ایک کیمونٹ مسلمان کو ایک بار میں نے دیکھا کہ وہ ہاتھ اٹھا کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader