Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 513

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کے اندر سے لڑنے مرنے کی اسپرٹ نکال دینا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس پر آپ کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ یہ تو عین سنت ہے۔ جیسا کہ بخاری میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ : ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الاختار أيسرهما۔ وہ مزید بحث کرنے لگے اور باطل سے مقابلہ اور اس کی راہ میں جان دینے کی عظمت بیان کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ میں حضرت سفیان الثوری (۱۶۱ - ۷۹ ھ) کا ایک قول آپ کو سناتا ہوں۔ یہی میری طرف سے آپ کی بات کا جواب ہے۔ انھوں نے کہا تھا: انما الفقه الرخصة من ثقة، أما الشدّة فيحسنه كل أحد (فقہ تو یہ ہے کہ کسی مستند ذریعہ سے دین میں آسانی کا پہلو معلوم کیا جائے ۔ جہاں تک شدت پسندی کا تعلق ہے تو اس کا ماہر تو ہر شخص ہوتا ہے)۔ ایک میگزین میں ایک مضمون امریکی زندگی کے بارہ میں تھا۔ ایک تصویر میں دکھایا گیا تھا کہ ایک بس کھڑی ہوئی ہے۔ اس کے پچھلے دروازے سے ایک معذور آدمی اپنی وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا باہر نکل رہا ہے۔ تصویر کے نیچے لکھا ہوا تھا ۔ امریکہ میں نئی بسوں کے لئے ضروری ہے کہ ان میں وہیل چیئر کے مسافروں کے لئے انتظام ہو : New buses in America, such as this one in Portland, must be equipped to accommodate wheelchair-bound passengers. ۲۶ جولائی ۱۹۹۰ء کو واشنگٹن میں وھائٹ ہاؤس کے لان میں دو ہزار آدمی جمع ہوئے ان میں سے اکثر وہیل چیئر پر تھے۔ وہ اس لئے آئے تھے کہ معذوری کے قانون (Disabilities Act) پر دستخط کریں۔ میگزین کے مطابق، اس ایکٹ نے امریکہ کے معذور باشندوں کو ایسے حقوق دئے ہیں جو کسی بھی دوسرے ملک کے لوگوں کو حاصل نہیں ۔ امریکہ میں معذور ہونا کسی آدمی کو خصوصی حق دیتا ہے، جبکہ ہندوستان اور پاکستان جیسے ملکوں میں معذور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ناقابلِ لحاظ ہو جائے۔ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۲ دسمبر ۱۹۹۳ء) میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب کی حکومت نے ایک لاکھ تیرہ ہزار (113,000) قرآن کے نسخے با ترجمہ اور بغیر ترجمہ امریکہ کے مختلف اسلامی مرکزوں اور مسجدوں کو تحفہ اہم کئے ہیں۔ یہ صرف ایک خبر کا معاملہ ہے۔ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page