ایک سفر
Urdu book, p. 525
By Maulana Wahiduddin Khan
حاصل رہے۔ وہ دنیا کے لئے رحمت بنیں اس کے باوجود دنیا ان کو رحمت کا خطاب دے، مگر خدا کی دنیا میں کبھی ایسا ہونے والا نہیں، مسلمان کی تصویر ان کے اپنے اعمال کی بنیاد پر بنے گی نہ کہ ان کی خواہش کی بنیاد پر۔ کشمیر کے ڈاکٹر غلام نبی فائی بھی اس کانفرنس میں آئے تھے۔ ان کے خط کے جواب میں صدر کلنٹن کے خط (مورخہ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۳) کا ہندوستانی اخباروں میں کافی چرچا ہوا۔ انہوں نے اس خط کی ایک کاپی مجھے دی۔ امریکہ کے شعبہ خارجہ کے ایک افسر مسٹر ایوجین پرائس (جو نیر .Eugene D. Price Jr) سے میں نے اس خط کی بابت پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا نے غیر ضروری طور پر اس خط کو اہمیت دے دی۔ اس طرح کا خط تو روٹین کے طور پر ہمارے یہاں سے روزانہ جاتا رہتا ہے۔ دفتر خارجہ کے کارکنوں کو ایک عام پالیسی بتا دی جاتی ہے۔ اس کے تحت وہ خود اس طرح کے خطوط کے جوابات دیتے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ خود صدر کلنٹن ڈکٹمیٹ کرا کے اس خط کو لکھوائیں۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے بارہ میں ہماری پالیسی وہی ہے جو پہلے تھی۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ایک کشمیری مسلمان نے کہا کہ فلپائن کا ایک کھلاڑی ٹینس کا ماہر تھا۔ وہ شاندار کھیل دکھا رہا تھا کہ اچانک فیئلڈ کے اندر ہی گر پڑا اور فوراً مرگیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اس واقعہ کو اخبار میں پڑھا تو میں نے کہا کہ آج مجھے یقین ہو گیا کہ کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔ یہ صاحب اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ وہ کشمیری تحریک میں ایک لیڈر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ کشمیر کی پر تشدد تحریک چلا رہے ہیں وہ کتنے سادہ لوح لوگ ہیں۔ شکاگو کے الینوئی انسٹی ٹیউট آف ٹیکنالوجی (I.I.T) میں انڈین طلبہ اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ لوگ مذاق سے اس کو انڈین انسٹی ٹیউট آف ٹیکنالوجی کہنے لگے ہیں۔ یہ بات عبد الحمید سیمی نے بتائی۔ کھانے کی میز پر ایک صاحب نے کہا کہ "یہودی مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔" عبد الحمید سیمی نے کہا کہ ہم لوگوں کا یہی ذہن ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری لڑکی نیوجرسی کے اسپتال میں ڈاکٹر ہے۔ وہاں ایک یہودی جونیئر ڈاکٹر میری بیٹی کو آنٹی کہتا ہے۔ جو کام وہ کہتی ہے فورا بھاگ کر اس کو کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ ایک مسلم خاتون ہیں۔ مگر وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader