ایک سفر
Urdu book, p. 546
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۸ دسمبر کو نماز عشاء کے بعد اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں ایک اجتماع ہوا۔ یہاں میری تقریر ہوئی ۔ میں نے تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی۔ اس کے بعد سوال و جواب ہوا۔ میں نے کہا کہ اس ملک میں جو مسلمان آباد ہیں وہ اکثر مسائل کا ذکر کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس دنیا میں ہمیشہ مسائل رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ آپ امریکہ چھوڑ کر مکہ مدینہ چلے جائیں تو وہاں بھی آپ دیکھیں گے کہ مسائل موجود ہیں۔ اس لئے اصل مسئلہ مسئلہ کا نہ ہونا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ کا سامنا کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہ ہو۔ آپ کو چاہئے کہ مسئلہ کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے اس کے بارہ میں سوچیں اور اپنے جوابی عمل کا نقشہ بنائیں ۔ آرنچ کاؤنٹی رجسٹر (۳۰ دسمبر) میں رائٹر کے حوالہ سے ایک خبر تھی۔ اس نے سرخیل (افغانستان) سے یہ رپورٹ بھیجی تھی کہ تغب وادی میں حریف افغانی گروہوں کے درمیان سخت لڑائیاں (fierce battles) جاری ہیں۔ یہ علاقہ کابل کے مشرق میں واقع ہے۔ ان لڑائیوں کے نتیجہ میں دس ہزار سے زیادہ افغانی اپنے وطن کو چھوڑ کر بھاگے ہیں۔ ریڈ کراس نے ان کے قیام کا انتظام عارضی کیمپوں میں کیا ہے۔ یہ لڑائی دو مہینہ سے جاری ہے۔ اس خبر کی سرخی یہ تھی: 10,000 flee fierce Afghan factional strife. سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے کے بعد افغانی اس طرح کیوں آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑائی ہی ان کا طریق زندگی ہے۔ گن کلچر کے سوا کسی اور کلچر کو وہ جانتے ہی نہیں۔ افغانیوں کی اصل ضرورت ہتھیاروں کی سپلائی نہیں ہے۔ ان کی اصل ضرورت یہ ہے کہ ان کو تعمیری سوچ دی جائے۔ ان کو تعلیم کی طرف موڑا جائے۔ ان کو بتایا جائے کہ عزت اور ترقی کارانہ گولی میں نہیں ہے بلکہ علم میں ہے۔ ایک صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ دور اول کے مسلمانوں کے لئے ہر طرف کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ آج وہ شکایت کرتے ہیں کہ ہر طرف کے دروازے ان کے لئے بند ہیں۔ پہلے ہر جگہ ان کو حمایت مل رہی تھی، آج ہر جگہ ان کو مخالفت سے سابقہ پیش آرہا ہے۔ اس کی وجہ دونوں زمانوں کے مسلمانوں کا ذہنی فرق ہے۔ دور اول کے مسلمان دنیا میں اس احساس کے ساتھ رہتے تھے کہ ہر انسان مسٹر نیچر ہے۔ آج کے مسلمانوں کا ذہن اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader