Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 549

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم زمانے میں افسانوی شہزادہ کی جان کسی طوطے میں ہوتی تھی جو کسی دور کے مقام پر رکھا ہوا تھا۔ "ترقی یافتہ امریکہ" کی جان دوبارہ عربوں کی سرزمین میں ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ قدیم شہزادہ کے طوطے کا پنجرہ اس کے اپنے قبضہ میں نہیں ہوتا تھا۔ مگر آج کے امریکہ نے عرب ورلڈ کو پوری طرح اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے۔ میں ایک مسلم لائبریری کے ریڈنگ روم میں بیٹھا ہوں۔ سامنے کی میز پر مختلف قسم کے پرچے رکھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کو یہاں کے مسلمان نکالتے ہیں۔ کچھ ٹائٹل یہ ہیں: Muslim World Monitor American Muslim Bosnia News Letter The Minaret The Pakistan Link Muslim Journal اس قسم کے بہت سے پرچے تھے۔ مگر ان کے مندرجات میں احتجاجی پہلو نمایاں تھا۔ مثلاً یہ کہ کلنٹن نے واشنگٹن میں سلمان رشدی سے ملاقات کر کے اسلام اور مسلمانوں کی انسلت کی ہے۔ مغرب کی تخریبی پالیسیوں کا نشانہ یہ ہے کہ اسلامی احیاء کی تحریکوں کو کچل دیا جائے، وغیرہ: Clinton's insult to Islam. West's disruptive policies aimed at undermining the revival of Islam میز پر جتنے بھی مسلم پرچے تھے سب میں احتجاجی پہلو غالب تھا۔ اگر ان سب کا مشترک نام پروٹسٹ رکھ دیا جائے تو وہ غلط نہ ہوگا۔ انھیں کے درمیان ایک اور ہفت روزہ تھا۔ اس کا نام تھا (L.A. India Journal) یہ ہفت روزہ ایک ہندو تنظیم نکالتی ہے۔ اس کا اندازہ بڑی حد تک مختلف تھا۔ معلوم ہوا کہ امریکہ میں ہندوؤں کے پرچے زیادہ معیاری اور زیادہ کامیاب ہیں۔ عجیب بات ہے کہ امریکہ میں بھی ہندو اور مسلمان کا فرق باقی ہے، حالاں کہ تعداد کے اعتبار سے دونوں تقریباً یکساں ہیں۔ یعنی ہر ایک چھ ملین۔ ۲۹ دسمبر کی شام کو جناب عبداللطیف صاحب کے مکان پر کھانا تھا۔ یہاں کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی۔ جناب عبدالوہاب صاحب نے انڈسٹری کے بارہ میں کئی باتیں بتائیں۔ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page