ایک سفر
Urdu book, p. 551
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں اگر کوئی شخص پیشاب کر دے یا اور کوئی گندگی ڈال دے۔ مثلاً وہ خنزیر کو مسجد میں ڈال دے۔ یا ہولی کا رنگ پھینک دے تو ایسی حالت میں مسلمان کو کیا کرنا چاہئے۔ مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس کو مسجد کی بے حرمتی کا مسئلہ نہ بنائیں بلکہ وہ اس کو مسجد کی صفائی کا مسئلہ بنائیں۔ اس طرح کے کسی واقعہ کو اگر مسجد کی بے حرمتی کا سوال بنا دیا جائے تو اس سے فساد برپا ہوتا ہے اور اگر اس کو مسجد کی صفائی کا سوال بنا لیا جائے تو ایک ڈول پانی پر معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ ایک صورت میں خون بہائے جاتے ہیں اور دوسری صورت میں پانی کو بہانا ناکافی ہو جاتا ہے۔ آسانی پیدا کرنے والے اور مشکل پیدا کرنے والے کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہئے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہو تو وہ اس کو گھٹانے والے بنیں ، وہ اس کو بڑھانے والے نہ بنیں ۔ یہ بھی ایک سنت رسول ہے۔ آجکل اگر کسی سے پوچھیں کہ سنت کیا ہے تو وہ کہے گا کہ داڑھی میں خضاب لگانا، سر پر عمامہ باندھنا۔ مسواک کرنا وغیرہ۔ لوگوں کو معلوم نہیں کہ یہ بھی ایک عظیم سنت ہے کہ کوئی شخص اگر مسجد جیسی مقدس جگہ پر گندگی ڈال دے تو آپ مشتعل نہ ہوں۔ آپ معاملہ کو مزید نہ بڑھائیں۔ بلکہ جس مقام پر مسئلہ پیدا ہوا ہے وہیں دھو کر اسے ختم کر دیں۔ امریکی مسلمانوں کی ایک تنظیم کے ایک عہدیدار نے اپنے یہاں کا چھپا ہوا پمفلٹ مجھے دیا۔ یہ ایودھیا کی بابری مسجد کے بارہ میں تھا۔ اس میں بابری مسجد کی تصویر کے ساتھ یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : The Babari Masjid at Ayodhya was demolished on December 6, 1992 by a frenzied mob of thousands of militant Hindus. یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ دنیا بھر کے مسلمانوں نے مختلف الفاظ میں یہی بات لکھ رکھی ہے۔ مگر اس کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ 6 دسمبر کے واقعہ کو جس طرح انھوں نے لکھا ہے اسی طرح خدا کے فرشتوں نے بھی اس کو یقینی طور پر لکھ رکھا ہے۔ اور مسلم دانشوروں کی اس تحریر کی قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ وہ فرشتوں کے اندراج کے مطابق ہو۔ مجھے سخت شبہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ فرشتوں کے رجسٹروں میں غالباً اس واقعہ کی بابت برعکس طور پر یہ الفاظ لکھے گئے ہوں گے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader