Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 553

By Maulana Wahiduddin Khan

دیتا ہے : سائنسی چار سو سال سے پراسراریت کی تہہ کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے جو کہ تاریک ادوار میں دنیا کو گھیرے ہوئی تھی۔ اس کوشش میں سائنس نے نہ صرف علم کے کچھ جزیروں کو دریافت کیا ہے بلکہ بلی کے وسیع سمندر سے بھی آدمی کو واقف کرایا ہے : ۲۹ دسمبر کی سہ پہر کو جہاز سین جوزے ایئر پورٹ پر اتر گیا ۔ یہاں ڈاکٹر جہاں عالم موجود تھے۔ ان کے ساتھ آگے کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ پورا علاقہ نہایت صاف ستھرا ہے ، اس کو عام طور پر (Bay Area) کہا جاتا ہے۔ پہلے ہم لوگ پالو آلٹو (Palo Alto) گئے۔ یہاں جناب منظور غوری صاحب کے مکان پر کچھ دیر قیام رہا ۔ پالؤ آلٹو عالمی تجارت کا مرکز ہے اور بہت زیادہ مہنگا علاقہ ہے۔ منظور غوری صاحب علی گڑھ سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ نے ہجرت سے اپنا مسئلہ حل کیا ہے۔ ہمیں بھی ہجرت ہی سے اپنا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔ اگر چہ دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ آپ لوگوں نے ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف ہجرت کی ہے۔ ہم کو ایک طریقہ کار سے دوسرے طریقہ کار کی طرف ہجرت کرنا ہوگا۔ اب تک ہندوستانی مسلمان احتجاجی طریقہ کار پر چل رہے تھے ، اب انھیں صابرانہ طریق کار اختیار کرنا ہوگا۔ ۲۹ دسمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ منظور غوری صاحب کے ساتھ فری مانٹ (Fremont) گیا۔ وہاں کی زیر تعمیر مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ یہ مسجد ایک مکان خرید کر بنائی جارہی ہے۔ یہاں مختلف لوگوں سے انفرادی انداز میں گفتگو ہوئی۔ منظور غوری صاحب ہندوستان کے مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک کالج چلانے کے لئے دس ہائی اسکول چاہئیے۔ ایک ھائی اسکول کے لئے پانچ ایلیمنٹری ایجوکیشن کا ادارہ چاہئیے ۔ نیچے کی تعلیم جب تک مضبوط نہیں ہوگی اوپر کی تعلیم مضبوط نہیں ہوسکتی۔ پہلے تو ہم نے یونیورسٹی بنائی تھی۔ اب ہمارا فوکس یہ ہونا چاہئے کہ ایلیمنٹری اسکول بناؤ ۔ وہ ہندوستان کے دیہات میں تعلیم کو پھیلانا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں ہر قسم کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page