ایک سفر
Urdu book, p. 556
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ مسلم تھنک ٹینک نے اپنا یہ نقشہ عمل مغربی قوموں کا مطالعہ کرکے انھیں کے نمونہ پر تیار کیا ہے۔ مگر موجودہ حالات میں یہ نہ صرف ناممکن ہے، بلکہ وہ مسلم مسائل کا حل بھی نہیں۔ مسلمانوں کے لئے صرف دو نکاتی پروگرام یہ ہے کہ داخلی اعتبار سے تعلیم اور خارجی اعتبار سے دعوت۔ یہ پروگرام پوری طرح قابلِ عمل ہے اور وہی سنتِ رسول کے مطابق ہے۔ پر وگرام کسی خیالی نقشے کا نام نہیں۔ حقیقی پروگرام وہ ہے جس کو زیرِ عمل لانا فوری طور پر ممکن ہوا اور نتائج کے اعتبار سے وہ دور رس ثابت ہونے والا ہو۔ واپسی میں جہاز کے اندر امریکی ایئر لائنز کا میگزین امریکن وے ( یکم جنوری ۱۹۹۳ء) پڑھا۔ اس میں مضامین کم اور اشتہارات زیادہ تھے۔ امریکہ میں گفت و شنید (negotiating programs) کو ایک مستقل فن کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ بڑے بڑے ادارے صرف اس کام کے لئے قائم ہیں اور ضرورت مند لوگ بڑی بڑی قیمت دے کر ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ اسی قسم کی ایک بڑی امریکی کمپنی کا اشتہار میگزین میں چھپا ہوا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ گفت و شنید آپ کا سب سے زیادہ طاقت ور تجارتی آلہ (business tool) ہے۔ مؤثر بات چیت (effective negotiating) کی تفصیلات دیتے ہوئے اس میں درج تھا کہ : In business, you don't get what you deserve, you get what you negotiate. اس کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ یہی معاملہ زندگی کا بھی ہے۔ ایک آدمی امکانی طور پر ایک چیز کا مستحق ہو سکتا ہے۔ مگر امکانی استحقاق کو واقعہ بنانے کے لئے اپنی قوت کلام کو پر امن طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کلام کی صورت میں آدمی کو بہت بڑی طاقت دیدی ہے۔ مگر نادان آدمی معنوی حقیقتوں سے بے خبر ہونے کی بنا پر گولی کو سب سے بڑی چیز سمجھ لیتا ہے۔ بے ایریا سے واپس ہو کر دوبارہ میں آرنج کاؤنٹی آ گیا۔ یہاں روزنامہ آرنج کاؤنٹی رجسٹر ( یکم جنوری ۱۹۹۳ء) میں ایڈورڈ گارگن (Edward A. Gargan) کے قلم سے ایک رپورٹ چھپی تھی اس کا عنوان تھا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader