Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 564

By Maulana Wahiduddin Khan

۴ جنوری کی شام کو جناب جاوید نواز صاحب کے مکان پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں کچھ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ یہاں میں نے تقریباً آدھ گھنٹہ کی تقریر کی۔ اس میں بہت یا کہ ہمیشہ مسائل کے ساتھ مواقع موجود رہتے ہیں اور آج بھی ہیں۔ ہم کو چاہیے کہ مسائل کو نظر انداز نہ کریں اور مواقع کو استعمال کریں۔ آخر میں سوال و جواب ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ امریکہ میں مسلم نسلوں کے (assimilation) کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ چھ ملین مسلمانوں کے درمیان یہاں چھوٹی بڑی ڈیڑھ ہزار مسجدیں ہیں۔ ان مسجدوں میں خاص طور پر جمعہ کے دن معقول تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اجتماع عبادت سے زیادہ سوشلائزنگ کے لئے ہوتا ہے۔ ترکی اور سوویت یونین میں مسلمانوں نے اپنا تشخص نہیں کھویا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں چیلنج تھا۔ چیلنج ہمیشہ مزاحمت (resistance) پیدا کرتا ہے اور وہ زندگی کی ضمانت بن جاتا ہے۔ امریکہ میں یہ چیلنج نہیں اس لئے یہاں مسلمانوں کے لئے جذب ہو جانے کا خطرہ نظر آتا ہے۔ تاہم ایک پر امید علامت یہ ہے کہ خبروں کے مطابق، امریکی حکومت اسلام کو مغربی تہذیب کے دشمن کے طور پر پروجیکٹ کر رہی ہے۔ اگر فی الواقع یہ امریکی ایڈ منسٹریشن کا سوچا سمجھا فیصلہ ہو تو یہ چیز مسلمانوں کی بقا کی ضامن بن جائے گی۔ کیوں کہ اس کے بعد یہاں بھی چیلنج اور اس کے جواب میں مقاومت کا ماحول بن جائے گا جو اسلامی تشخص کے بقا کی ضمانت ہوگا۔ ہندوستان کے جو مسلمان امریکہ میں آباد ہیں انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے نام پر بہت سی چھوٹی بڑی تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں۔ تنظیمی اعتبار سے یہ سب الگ الگ ہیں۔ مگر طرزِ فکر کے اعتبار سے سب کی سب یکساں ہیں۔ ہر گروہ ہندوستانی مسلمانوں کا تعارف مظلوم فرقہ (oppressed community) کی حیثیت سے کراتا ہے اور ہندوؤں کا تعارف جن کیجو ہند و (Hindu militants) کی حیثیت سے۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہندوستان بھی ویسا ہی ایک ملک ہے جیسا کہ امریکہ۔ ہندوستان میں نہ مسلمان مظلوم ہے اور نہ ہندو ظالم۔ جو بگاڑ وہاں آپ دیکھتے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page