ایک سفر
Urdu book, p. 574
By Maulana Wahiduddin Khan
علم جب معرفت کے درجہ کو پہنچ جائے تو اس کی یہ لذت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اس کا کوئی حساب ہی نہیں۔ دوران سفیر ائیر انڈیا کا فلائٹ میگزین (جنوری۔ فروری ۱۹۹۳ء) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون کا عنوان تھا : وطن کی طرف واپسی (The home coming) اس میں بتایا گیا تھا کہ گورنمنٹ آف انڈیا کی اکانومی کے بر لائزیشن کی اسکیم اور ریڈ ٹیپ میں کمی اور پرمٹ راج کو ختم کرنے کی پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ نان ریزیڈینٹ انڈین کی واپسی کے لئے گویا فلڈ گیٹ کھل گیا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق، بیرونی ملکوں میں رہائش پذیر ہندوستانیوں کی تعداد ۲ ملین ہے۔ یہ لوگ تقریباً ۳۵ بلین ڈالر کی قابل سرمایہ کاری (investible) دولت رکھتے ہیں۔ اب تک یہ لوگ اپنی دولت باہر لگانا پسند کرتے تھے۔ مگر اب وہ ہندوستان میں سرمایہ کاری سے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ پچھلی نصف صدی میں بے شمار بیرونی دولت جو ملک میں آسکتی تھی وہ باہر کی باہر رہ گئی۔ وہ ہندوستان کی خوش حالی میں اضافہ کا سبب نہ بن سکی۔ اس کی واحد وجہ ملکی صنعتوں کے لئے تحفظ (protection) کے نام پر بننے والے مصنوعی قوانین اور ضوابط تھے۔ ہندوستان کی جدید اقتصادی تاریخ کا یہ واقعہ بتا تا ہے کہ اصلاح کے نام پر ہونے والا ایک عمل بھی کتنے بڑے فساد کا باعث ہوسکتا ہے۔ یہی اصلاحی فساد مزید اضافہ کے ساتھ خود مسلم رہنماؤں نے بھی ساری مسلم دنیا میں بر پا کر رکھا ہے۔ جہاز میں کئی اخبار پڑھے۔ ہندی اخبار نو بھارت ٹائمس (ا فروری ۱۹۹۴ء) بھی موجود تھا۔ کانپور کے فساد کی خبر کی سرخی یہ تھی : کانپور میں سیناتینات، ۱۵ تھانہ چھیتروں میں کرفیو۔ اس جملہ میں اردو کا تعینات ہندی میں جاکر تعینات بن گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سماج کے مختلف طبقات کے میل جول سے زبانیں کس طرح بدلتی رہتی ہیں۔ یہی تبدیلی متدیم زمانہ میں مذہب کی مقدس کتابوں میں بھی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہر مذہبی کتاب کے متن میں طرح طرح کے فرق واقع ہو گئے ہیں۔ حتی کہ بعض اوقات اس کا اصل ابتدائی مفہوم ہی خبط ہو کر رہ گیا ہے۔ مثال کے طور پر بائبل میں بہت سے ایسے الفاظ ہیں جن کے واقعی معنی معلوم نہیں۔ ان کا مفہوم صرف انکل سے قائم کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب : Historical Jesus

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader