ایک سفر
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
کا مقصد صالح نظام بنانا ہے۔ اور صالح نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ موجودہ زمانہ کی مسلم حکومتیں ہیں جو سیاسی جبر کے اوپر قائم ہیں۔ اگر ہم اس سیاسی جبر کا خاتمہ نہ کریں تو ہم کبھی بھی صالح نظام قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ میں نے کہا کہ جبر (اجباری نظام) کو توڑنے کے لئے ہمیں براہ راست جدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کام خود خدا کی طرف سے زیادہ موثر طور پر انجام دیا جا رہا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا کو خدا نے امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ امتحان کی مصلحت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ لوگوں کو اپنے عمل کی آزادی ہو۔ اگر کسی آدمی کا ہا تھ پاؤں باندھ دیا جائے تو اس پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ اس نے مسجد میں جاکر نماز ادا نہیں کی۔ رات کا اندھیرا خود ختم ہوتا ہے۔ رات کو ختم کرنے کے لئے ہمیں اس سے براہ راست لڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اپنے اندر یہ استعداد پیدا کریں کہ جب رات ختم ہو کر دن آئے تو ہم اس کو پوری طرح استعمال کر سکیں۔ اسی طرح نظام جبر کے دوران ہمیں یہ تیاری کرنا چاہئے کہ جب خدا اس کو ختم کرے تو ہم نئے مواقع کو استعمال کر کے صالح نظام کی تعمیر کر سکیں۔ ۱۹۸۹ء کے درمیان روس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کے اسی قانون کی بنا پر ہے ۔ سوویت یونین نے زمین کے ایک بڑے رقبہ پر کامل جبر کا نظام قائم کر دیا تھا۔ یہ صورت حال خدا کی مصلحت کے سراسر خلاف تھی۔ یہ خدا کی دی ہوئی امتحانی آزادی کو ساقط کرنے کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ خدا کی طاقت ظاہر ہوئی اور اس نے حیرت انگیز طور پر سوویت ایمپائر کو توڑ دیا۔ موجودہ زمانہ کے اسلام پسند رہنما اپنے حصہ کا کام نہیں کرتے۔ وہ خدا کے حصہ کا کام کرنے کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب خدا نظام جبر کو توڑتا ہے تو اسلام پسند قائدین اس حیثیت میں نہیں ہوتے کہ وہ سابق نظام کی جگہ لے سکیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک جبر کے بعد دوسرا جبر اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ یا نظام جبر ٹوٹنے کا فائدہ صرف ان لوگوں کے حصہ میں چلا جاتا ہے جو آزادی کو بے راہ روی کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ کھانے کی میز پر دو آدمی بات کر رہے تھے۔ ایک قپرس کے تھے۔ دوسرے سرینام کے ۔ دونوں میں تعارف ہوا۔ گفتگو ہونے لگی۔ ایک صاحب اپنے ملک کی پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔ دوسرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader