ایک سفر
Urdu book, p. 678
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم اکتوبر کو پہلی بار برطانی اخبارات میں انڈیا کے بارہ میں نمایاں خبر پڑھی۔ یہ بھونچال کی خبر تھی۔ مہاراشٹر کے اضلاع لاتور اور عثمان آباد میں شدید بھونچال کے نتیجہ میں ۲۰ دیہات میں زبردست تباہی آئی۔ چھ دیہات کا وجود مٹ گیا۔ تقریباً ۳ ہزار آدمی ہلاک ہوگئے ۔ وغیرہ وغیرہ۔ زلزلہ کا سبب زمین کی قدرتی بناوٹ ہے۔ زمین اوپر سے بظاہر ٹھوس دکھائی دیتی ہے مگر اس کے نیچے بہت بڑی مقدار میں پگھلا ہوا مادہ ہے۔ زمین کی پرت پلیٹوں کی مانند اندر کی نرم تہہ پر پھیلتی رہتی ہے۔ جب یہ پلیٹیں آپس میں رگڑ کھاتی ہیں تو زمین میں درائر پڑ جاتی ہے۔ اس وقت زمین کی تہوں کے سرکنے سے زلزلہ آتا ہے۔ زلزلہ کی تباہی سے کوئی چیز بچ نہیں سکتی۔ جو کچھ ممکن ہے وہ صرف یہ کہ مکانات کی تعمیر اس طرح لچکدار انداز میں کی جائے جو زلزلے کے جھٹکے کو سہارسکے۔ اور ہل کر اپنی جگہ کھڑی رہے جس طرح آندھی کے مقابلہ میں گھاس کرتی ہے۔ کیلی فورنیا (امریکہ) میں زلزلے عام ہیں۔ مگر اسی طرز تعمیر کی بنا پر آجکل وہاں جانی نقصان بہت کم ہوتا ہے۔ ززلزلوں کا شکار اب زیادہ تر وہ قومیں ہوتی ہیں جہاں منصوبہ بند تعمیر کا فقدان ہے۔ محمود صاحب ایک پاکستانی میکانیکل انجینئر ہیں۔ وہ ٹریننگ کے تحت تین سال کے لئے اوسا کا (جاپان) میں رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک کارخانہ میں وہ تربیت کے لئے جاتے تھے۔ وہاں وہ دیکھتے تھے کہ روزانہ ایک بوڑھا آدمی آتا ہے۔ وہ خالی بیگ سمیٹ کر جمع کرتا ہے اور ان کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ کوئی لوئر گریڈ کا ملازم ہے جو اسی کام کے لئے مقرر ہے۔ اس کے بعد ایک روز ایسا ہوا کہ انھیں کسی ضرورت سے کارخانہ کے چیف انجینئر کے یہاں جانا پڑا۔ انھوں نے حیرت کے ساتھ دیکھا کہ وہی بوڑھا آدمی چیف انجینئر کی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے جس کو وہ کارخانہ میں صفائی کرتے دیکھا کرتے تھے۔ محمود صاحب کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں جب آفس آتا ہوں تو لوگوں کو ضروری ہدایات دینے کے بعد میرے پاس وقت رہتا ہے۔ اس وقت کا رخانہ چلا جاتا ہوں اور وہاں لوگوں کا ہاتھ بٹاتا ہوں۔ اس کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ مجھے ہر چیز کی فرسٹ ہینڈ معلومات ہو جاتی ہے جو بحیثیت چیف انجینئر مجھے اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں کام آتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader