ایک سفر
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دو طرفہ احساس کے نتیجہ میں اس کی زبان سے بے اختیارانہ نکل پڑے کہ خدایا، میرے پاس کوئی عمل نہیں جو مجھ کو جنت میں لے جائے۔ لیکن خدایا، میں عاجز ہوں۔ جہنم کو برداشت کرنے کی طاقت میرے اندر نہیں۔ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں۔ تو مجھے جنت دیدے ، اس لئے نہیں کہ میں نے اس کے لئے عمل کیا، بلکہ اس لئے کہ میں نے تجھ سے اسے مانگا: يا رب ليس عندى عمل يؤدى بي الى الجنة ، ولكن انا عاجز لا استطيع الصبر على النار ۔ فانا اسألك الجنة - رب هب لي الجنة ، لا لأنى عملت لها بل لانى سألتها منك۔ اکثر بالواسطہ نتیجہ زیادہ بڑا نتیجہ ہوتا ہے۔ لیکن لوگ اپنی ظاہر پسندی کی وجہ سے صرف براہ راست واقعات کو دیکھ پاتے ہیں۔ اور اسی کی بابت بحث و مباحثہ میں الجھے رہتے ہیں۔ مثلاً جمال عبد الناصر کے سوشلزم اور قوم پرستی کے نظریات مسلم پریس میں زیادہ تنقید کا موضوع رہے ہیں۔ حالانکہ اس سے زیادہ دور رس نتائج وہ ہیں جو جمال عبد الناصر کی لایعنی پالیسیوں کے ذریعہ بالواسطہ طور پر برآمد ہوئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں نے سید قطب اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابیں پڑھی ہیں اس کے بعد گفتگو کے دوران جمال عبد الناصر کا ذکر آیا تو وہ جمال عبد الناصر کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ مجھے جمال عبد الناصر کے سوشلزم اور ان کے قوم پرستی کے نظریات سے اتفاق نہیں۔ تاہم یہ جمال عبد الناصر ہی کی "برکت" ہے کہ ان شخصیتوں کو عرب دنیا میں وہ مقبولیت حاصل ہوئی جن کا آپ نے ذکر کیا۔ یہ گویا ناصرازم کا بالواسطہ نتیجہ تھا۔ جمال عبد الناصر نے سوشلزم کا نعرہ لگایا اور روس سے اپنا رشتہ جوڑا۔ وہ عالم عرب کا لیڈر بننے کا خواب دیکھنے لگے۔ اپنے اس جوش کے تحت انھوں نے یہ حماقت کی کہ انھوں نے کمیونسٹ یمن کی تائید کی اور یمین کے راستہ سے اپنی فوجیں سعودی عرب میں داخل کر دیں۔ ناصر کی ان پالیسیوں کے نتیجہ میں ناصر اور سعودی حکمراں وں کے درمیان شدید رقابت قائم ہوگئی۔ مشہور ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ چونکہ سید ابوالاعلیٰ مودودی فکری حیثیت سے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader