ایک سفر
Urdu book, p. 692
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ اگر پہلے سے معلوم ہوتا تو ہنگہم میں آپ حضرات کے ساتھ مزید کچھ وقت گزر سکتا تھا۔ مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی کہ کہہ دو کہ اگر میں غیب کو جانتا تو بہت نفع حاصل کرتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی (الاعراف ۱۸۸) یہ آیت بتاتی ہے کہ اس دنیا میں سود سے بچنے اور خیر کو پانے کا تعلق تمام تر مستقبل بینی سے ہے۔ یہی معاملہ آخرت کا بھی ہے۔ جو شخص پیغمبر کی پیشگی خبر پر یقین کر کے اخروی مستقبل کو اپنا concern بنائے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے وہی زندگی کے طویل تر مرحلہ میں کامیاب رہے گا۔ لندن ایئر پورٹ پر میں انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا ، دیکھا تو لوگ چلتے پھرتے نظر آ رہے تھے ۔ ان کے چہروں پر بے فکری کے آثار تھے، میں نے سوچا کہ ان کی اس بے فکری کا راز کیا ہے ۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس راز کا راز یہ ہے کہ ہر ایک شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتا ہے کہ اس کی جیب میں پونڈ اور ڈالر موجود ہے۔ اور اس کے ذریعہ سے وہ دنیا کی ہر وہ چیز حاصل کر سکتا ہے جس کو وہ چاہے۔ کاش لوگوں کو معلوم ہوتا کہ عنقریب وہ ایک اور دنیا میں داخل کر دئے جائیں گے جہاں پونڈ اور ڈالر کی کچھ بھی قیمت نہ ہوگی۔ وہاں کا سکہ بالکل دوسرا ہوگا۔ اور جس آدمی کے پاس وہاں کا سکہ نہ ہو وہ وہاں بالکل مفلس ہو کر رہ جائے گا۔ خواہ دنیا میں اس کا بینک ببلنس کتنا ہی زیادہ ہو۔ جہاز فضا میں اُڑ کر لندن سے دہلی کی طرف روانہ ہوا تو خیال آیا کہ میرے پاس دہلی۔ لندن کا ریٹرن ٹکٹ تھا۔ اس کے مطابق اپنا سفر پورا کر کے میں اپنے وطن واپس جا رہا ہوں ۔ اسی طرح میرے پاس اور تمام انسانوں کے پاس ایک اور ریٹرن ٹکٹ ہے۔ یہ ریٹرن ٹکٹ آخرت۔ دنیا۔ آخرت کے سفر کے لئے ہے۔ اس دوسرے ریٹرن ٹکٹ سے آدمی آخرت سے نکل کر دنیا میں آیا ۔ اور پھر دوبارہ وہ آخرت کی طرف لوٹ جائے گا۔ جس طرح میرے لئے دہلی کی طرف واپسی کی تاریخ مقرر تھی اسی طرح میری اور تمام انسانوں کی آخرت کی طرف واپسی کی تاریخ بھی مقرر ہے۔ جس دن یہ تاریخ آئے گی تو قرآن کے الفاظ میں ، لوگ نہ ایک گھڑی پیچھے ہوں گے اور نہ ایک گھڑی آگے (یونس ۴۹)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader