ایک سفر
Urdu book, p. 694
By Maulana Wahiduddin Khan
اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ ایک ماں کو یہ پسند نہیں کہ اس کا بچہ مرنے کے بعد ایک غیر pretty قبرستان میں دفن ہو۔ مگر عین اسی وقت بے شمار مائیں اس پر راضی ہیں کہ ان کا محبوب بچہ مرنے کے بعد آگ میں جلے اور جہنم کا گڑھا اس کا ابدی ٹھکانا ہو۔ شاید ہماری دنیا میں اس سے زیادہ عجیب تضاد کی کوئی اور مثال نہیں ملے گی۔ طویل سفر کے دوران کئی بار تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے نیند آئی۔ ایک بار ہچکی کے ساتھ نیند آئی تو میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ میں فضا کی بلندی میں سفر کر رہا ہوں ۔ مگر یہ سفر ہوائی جہاز میں نہیں ہو رہا ہے بلکہ آپ کے ساتھ موٹر کار میں ہو رہا ہے۔ آپ اپنی کار چلا رہے ہیں۔ آپ کے پاس سامنے کی سیٹ پر ثانی اثنین ہیں۔ اور میں پیچھے کی سیٹ پر بیٹھا ہوا ہوں۔ کار ہم کو لئے ہوئے ہوائی جہاز جیسی تیزی کے ساتھ فضا میں اڑتی ہوئی چلی جا رہی ہے۔ اس قسم کے مختلف احساسات کو لئے ہوئے میرا سفر جاری تھا۔ یہاں تک کہ ۵ اکتوبر کی صبح کو ساڑھے چھ بجے ہمارا جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ میں نے اللہ تعالیٰ شکر ادا کیا کہ اس نے میری دعا قبول کر لی۔ وہ خیریت کے ساتھ مجھے دہلی سے لے گیا اور خیریت کے ساتھ دوبارہ دہلی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader