ایک سفر
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
حل کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہترین نمونہ موجود ہے۔ وہ یہ کہ دونوں آدمی ایک ساتھ چھری کا دستہ پکڑتے ہیں اور دونوں مل کر کیک کاٹ دیتے جیسا کہ آپ نے حجر اسود کو نصب کرنے کے لئے کیا اور جھگڑا ختم ہو گیا۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ استنباط نہایت با معنی ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ہر بات کے لئے نمونہ ہے خواہ وہ چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا معاملہ۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ہر بات کا نمونہ موجود ہے، حتیٰ کہ کسی تقریب کی کیک کاٹنے کے معاملہ کے لئے بھی۔ یہی مطلب ہے اسلام کے مکمل دین ہونے کا۔ نہ یہ کہ مکمل قانون نافذ کرنے کے نام پر حکمراں سے ٹکر ا شروع کر دیا جائے۔ کراچی میں مسٹر طارق رحمٰن نے بتایا کہ انشاء اللہ مارچ ۱۹۹۰ء سے الرسالہ کا پاکستان ایڈیشن چھپنا شروع ہو جائے گا۔ ان کے والد مرحوم فضل الرحمٰن صاحب الرسالہ کے بہت قدر داں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پاکستان میں دعوتی اور تعمیری ذہن پیدا کرنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ الرسالہ کو پاکستان سے شائع کیا جائے۔ وہ کئی سال تک اس کا ڈکلیریشن حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر فوجی قوانین کی وجہ سے وہ ڈکلیریشن حاصل نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ ۸ فروری ۱۹۸۹ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ مرحوم کے بعد ان کے صاحبزادہ طارق رحمٰن صاحب نے کوشش جاری رکھی۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی ان کے لئے معاون ثابت ہوئی۔ چنانچہ وہ ڈکلیریشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی دوران جناب عبد القادر صاحب (کراچی) نے بھی الگ سے الرسالہ کے لئے ڈکلیریشن حاصل کر لیا۔ تاہم مشورہ سے یہ طے ہوا کہ جناب طارق رحمٰن صاحب پاکستان ایڈیشن کا انتظام کریں۔ چنانچہ وہ مارچ ۱۹۹۰ء میں انشاء اللہ اس کا پہلا پرچہ شائع کر رہے ہیں۔ پاکستان کا ایڈیشن کسی حذف یا اضافہ کے بغیر الرسالہ کے دہلی ایڈیشن کی نقل ہوگا۔ اس معاملہ میں فارسی کا قدیم مثل پوری طرح صادق آتا ہے کہ پدر نہ کند پسر تمام کند۔ ایک صاحب نے کہا کہ پاکستان مسائل کو ختم کرنے کے لئے بنایا گیا تھا، مگر پاکستان بننے کے بعد یہاں نئے نئے مسائل پیدا ہو گئے۔ مثلاً دیکھئے، جو جنگ پہلے ہند و اور مسلمان کے درمیان جاری تھی، وہ اب مسلمان اور مسلمان کے درمیان جاری ہو گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader