Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

بھٹو وزیراعظم بن گئیں تو یہی لوگ عورت کی حکمرانی کو ناجائز بتا رہے ہیں۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ جمہوریت اسلام کے خلاف ہے، بعد کو وہ خود"بحالی جمہوریت"کے علمبردار بن گئے۔ پہلے انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام ایک اصول کا نام ہے نہ کہ قومیت کا ، اب وہ اپنی پوری تحریک قومی انداز پر چلا رہے ہیں جس کا الزام اس سے پہلے وہ مسلم لیگ کو دیتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد اگر یہ اسلام پسند ظاہر نہ ہوتے بلکہ یہاں کے معاملات کو اپنی فطری رفتار سے چلنے دیا جاتا تو مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی دینی اور اخلاقی حالت کہیں زیادہ بہتر ہوتی۔ مگر ان نام نہاد اسلام پسندوں نے جس طرح اسلام کو کھیل بنایا، اس نے لوگوں کو اسلام کی خلاف ورزی پر جبری کر دیا۔ انھوں نے اسلامی اصول کے تقدس کو توڑ دیا۔ اب وہ تمام دینی اور اخلاقی حدیں ٹوٹ گئیں جو روایات کے زور پر قائم چلی آ رہی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا میں اسلام کے سب سے بڑے قاتل وہ لوگ ہیں جو اپنے کو مکمل اسلام کا علم بردار بتا کر اسلام کو سیاسی نعرہ کا عنوان بنائے ہوئے ہیں۔ "تکبیر" کراچی کا ایک مشہور اردو ہفت روزہ ہے۔ اس کی چار قسطوں (۳۱ دسمبر ۱۹۸۹ تا ۲۵ جنوری ۱۹۹۰) میں ایک جائزہ چھپا ہے۔ اس کا موضوع ہے" سندھ میں ہندوؤں کا کردار۔ اس مفصل جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ (پاکستان) میں اس وقت تقریباً چودہ لاکھ ہندو آباد ہیں۔ تقسیم کے بعد ان ہندوؤں نے عارضی طور پر اپنے کردار کو تبدیل کر لیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ تعلیم اور تجارت کے شعبوں میں مشغول ہوگئے۔ پاکستانی جائزہ نگار مسٹر ظہیر احمد کے الفاظ میں" سندھ کے ۴ لاکھ ہندو اب پس ماندہ یا غیر ترقی یافتہ نہیں ہیں، بلکہ ترقی اور معیشت کی نبض پر بعض جگہ ان کا ہاتھ اتنا گہرا اور مضبوط ہے کہ دور رفتہ کا گمان ہوتا ہے۔ معاشی طور پر مستحکم اور سماجی طور پر محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ ہندو اب سندھ میں سیاسی کردار بھی سنبھال رہا ہے۔ اور قریب تیس برس کی منصوبہ بندی اسے ایک اہم موڑ پر لے آئی ہے۔ یہ سب کچھ اس طرح ہوا کہ قیام پاکستان کے بعد سندھ میں ہندو نے اپنے کردار کو تبدیل کر لیا۔ وقتی طور پر ہندو کا سیاسی کردار ختم ہو گیا۔ وہ اپنے سابقہ کردار کے سبب نفرت سے بچنے کے لئے پس پشت چلا گیا۔ تعلیم کے میدان ، ملازمتوں اور تجارت میں اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page