ایک سفر
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
کا اعتراف کر رہا ہے۔ میری سیٹ کے پاس تھیلے میں ایک خوبصورت سا ئمنفلٹ تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا: آسمان میں خریداری (shopping in the sky) اس پمفلٹ میں بتایا گیا تھا کہ دوران پرواز آپ جہاز کی " مارکیٹ " سے کیا کیا چیز خرید سکتے ہیں۔ میں نے مذکورہ جملہ پڑھا تو مجھے خیال آیا کہ دوسرے مسافروں کا کیس اگر " شاپنگ ان دی اسکائی " ہے تو میرا کیس " تھنکنگ ان دی اسکائی " کہا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ میرا ذہن ہمیشہ سوچنے میں لگا رہتا ہے۔ پھر خیال آیا کہ دنیا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ دنیا میں بیشتر لوگ " شاپنگ " کو اصل کارنامہ سمجھتے ہیں۔ یعنی دنیا کی مارکیٹ میں جو چیزیں مل رہی ہیں ، اس کا یہ زیادہ سے زیادہ ذخیرہ اپنے لئے سمیٹ لیں۔ کچھ لوگ ظاہری مادی سامان خریدتے ہیں اور کچھ لوگ اخباری شہرت، عوامی مقبولیت، اسٹیج کی لیڈرسی کو سب سے بڑی چیز سمجھ کر اس کو حاصل کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی چیز جو اس دنیا سے حاصل کی جائے وہ سوچنا ہے جس کو قرآن میں ذکر و فکر (آل عمران ) کہا گیا ہے۔ ذکر و فکر کسی قسم کے الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ یہ دراصل ذہنی تخلیق کا ایک عمل ہے۔ آدمی مئی حقیقتوں کو غیر مئی حقیقتوں میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے مادی کارخانہ سے روحانی پیدا وار نکالتا ہے۔ وہ عالم ظاہر سے ایک عالم باطن کی تعمیر کرتا ہے۔ اسی کا نام ذکر و فکر ہے۔ فرینکفرٹ سے جنیوا اجاتے ہوئے جہاز میں مختلف یورپی اخبارات تھے۔ میں نے ایک اخبار (USA Today)' لیا۔ اس کے صفحہ ۱۲ اوپر ایک رپورٹ تھی جس کا عنوان تھا: نیا جنگی میدان (The new war zone) اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جب سے امریکہ اور سوویت روس نے اپنی ہندو قیق رکھ دی ہیں ، اقتصادی طاقت ایک طاقت ور ہتھیار بن گئی ہے۔ اور اس نے چھوٹی طاقتوں مثلاً جاپان اور جرمنی کے لئے اس بات کا دروازہ کھول دیا ہے کہ وہ عالمی اہمیت حاصل کرنے کی طرف آگے بڑھ سکیں : Since the USA and Soviet Union have put down their guns, economic strength has become a powerful weapon. And that has opened the door for smaller powers-such as Japan and West Germany-to move into positions of global prominence.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader