سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
کر دیا ہے۔ وہ پائے گا کہ آج خود اسپین کی راجدھانی میں نہایت شاندار طور پر نئی مسجد اور نیا اسلامی مرکز بنایا گیا ہے۔ اس طرح آج وہاں جانے والا آدمی جگہ جگہ ایسے واقعات سے دوچار ہوگا جو اس کو بتائیں گے کہ اسپین کی پچھلی نسل نے اگر مسلمانوں کے خلاف زیادتی کی تھی تو اسپین کی موجودہ نسل اس قدیم پالیسی کو چھوڑ کر آج مسلمانوں کا استقبال کر رہی ہے۔ چنانچہ آج اسپین میں مسلمان قابلِ لحاظ تعداد میں موجود ہیں اور آزادانہ طور پر وہاں پر امن زندگی گزار رہے ہیں۔ صبح 7 بجے ہوٹل سے نکلا۔ میڈرڈ کے مختلف حصوں سے گزرتی ہوئی آخر کار ہماری گاڑی ایئر پورٹ پہنچ گئی۔ میڈرڈ کا ایئر پورٹ دوسرے ترقی یافتہ شہروں کے ایئر پورٹ کے مقابلہ میں کم منظم دکھائی دیا۔ مثلاً یہاں مجھ کو جو بورڈنگ کارڈ دیا گیا اس پر گیٹ کا نمبر لکھا ہوا نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ گیٹ نمبر عین بورڈنگ کے وقت مائک پر اناؤنس کیا جاتا ہے یا مخصوص بورڈ پر لکھ دیا جاتا ہے۔ میڈرڈ سے فرینکفرٹ کے لیے ایبیریا کی فلائٹ نمبر 3508 کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز میں مطالعہ کے لیے صرف اسپینی زبان کے اخبارات تھے۔ اس لیے میں خلافِ معمول دورانِ پرواز کسی اخبار کو نہ پڑھ سکا۔ جہاز مسافروں کو لیے ہوئے تیزی سے فضا میں اڑ رہا ہے اور مجھ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں نے ایک خواب دیکھا تھا جو اب اپنی تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ اسپین جانے کا شوق تو یقیناً مجھے تھا مگر مجھ کو یقین نہیں تھا کہ میں کبھی اسپین کا سفر کر سکوں گا۔ بظاہر یہ ایک نہ ہونے والی بات نظر آتی تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ میرے اسفار کا یہ خانہ بھی پورا ہو جائے۔ چنانچہ اچانک ایک روز ڈاک سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ اس کے بعد لمبا وقفہ پڑا اور وہاں سے مزید کوئی اطلاع نہیں ملی۔ دوبارہ اچانک آغازِ سفر کے صرف دو دن پہلے ٹیلی فون پر وہاں سے بتایا گیا کہ میرے سفری کاغذات بھیج دیے گئے ہیں۔ اس کو ایئر فرانس سے حاصل کر لیں۔ جہاز فرینکفرٹ کے قریب پہنچا تو پائلٹ نے مائک پر اعلان کیا کہ فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر ٹریفک کی وجہ سے ہم تقریباً پندرہ منٹ تاخیر کے ساتھ لینڈ کر سکیں گے۔ ریلوے میں اگر اگلے اسٹیشن کی پٹری خالی نہ ہو تو ٹرین پچھلے اسٹیشن پر ٹھہرا دی جاتی ہے۔ ہوائی جہاز کے لیے فضا میں ٹھہرنا ممکن نہیں۔ اس لیے ہمارا جہاز فرینکفرٹ کے اوپر اس طرح منڈلانے لگا جس طرح چیل بعض

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader