سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
امانت ہے اس پر تولیت کا حق صرف مسلمانوں کا ہے“ (ماہنامہ البلاغ، دسمبر 1995ء)۔ اس طرح کے مضامین پڑھ کر اکثر میری زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ اس سے زیادہ عجیب بات شاید اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ مسجد اقصی کو جانتے بھی نہیں اور اس کے حقوق کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعد کے دور میں مسلمانوں نے’’قبلہ اول‘‘کے لفظ کو جذباتی طور پر تو بہت استعمال کیا مگر مسجد اقصی کی زیارت کا رواج ان کے درمیان نہیں پڑا۔ آمدورفت کی اس کمی کا یہ نتیجہ ہوا کہ لوگوں کے ذہن میں واضح تصویر نہیں بنی کہ بیت المقدس کیا ہے اور مسجد اقصی کیا ہے۔ یہاں قریب سے دیکھنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ اس کا ایک سبب غالباً دونوں کا جغرافی فرق بھی ہے۔ صورت واقعہ یہ ہے کہ بیت المقدس (قبة الصخرة) ایک اونچی چٹان پر ہے۔ اس کے مقابلہ میں مسجد اقصی اس سے الگ نسبتاً نشیبی زمین پر ہے۔ اس بنا پر جب کوئی فوٹو لینے والا فوٹو لیتا ہے تو دونوں عمارتیں بیک وقت فوکس میں نہیں آتیں ۔ الا یہ کہ کسی بڑے کیمرے کے ذریعہ کافی دور سے اس کا فوکس لیا جائے ۔ تاہم دور سے فوکس لینے کی شکل میں بھی یہ صورت بدستور قائم رہتی ہے کہ اسی جغرافی فرق کی بنا پر تصویر میں بیت المقدس (قبة الصخرة) نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے اور مسجد اقصی اس کے پیچھے صرف غیر نمایاں انداز میں نظر آتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہجرت کے بعد جس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنایا، اس وقت وہاں موجودہ گنبد نہ تھا، اس وقت صرف سنگ خارا کی ایک چو کور چٹان تھی۔ یہی چٹان یہودیوں کا قبلہ بھی تھا اور عارضی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ بھی۔ گویا قبلہ یہود یا قبلہ اول دونوں ہی’’صخرہ‘‘ہیں، نہ کہ ’’سنہرا گنبد‘‘جس کو بیت المقدس کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ گنبد اس وقت سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ابوجعفر محمد بن جریر الطبری (م 310ھ) نے اپنی تفسیر قرآن میں قبلہ اول کے مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ خلاصہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے ہی مدینہ کے مسلمان (انصار) بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 622ء میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو آپ نے بھی اسی کے مطابق عمل فرمایا۔ اس کی وجہ اہل کتاب کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader