Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

خود ایک جنسی امتیاز ہے، پھر آپ اس کو جنسی برابری کا نام کیوں دیتی ہیں۔ پیرس میں کچھ وقت گزارنے کے بعد وہاں سے میڈرڈ کے لیے روانگی ہوئی ۔ یہ سفر آئبیرین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر 3445 کے ذریعہ طے ہوا۔ مقامی وقت کے لحاظ سے 27 نومبر کی شام کو ساڑھے سات بجے جہاز روانہ ہوا۔ یہ ڈیڑھ گھنٹہ کا ایک خوش گوار سفر تھا۔ ہوائی جہاز آگے کی طرف جا رہا تھا اور میرا ذہن پیچھے کی طرف مڑ کر فرانس میں اسلام، اور اسپین میں اسلام کی تاریخ کے صفحات الٹنے میں مصروف تھا۔ راستہ میں اسپینی ایئر لائنز (Iberia) کی فلائٹ میگزین رونڈا ایبیریا کا شمارہ نمبر 1994 دیکھا۔ 130 صفحہ کا یہ میگزین زیادہ تر سیاحوں کے نقطہ نظر سے مرتب کیا گیا تھا۔ اس میں سب سے زیادہ لمبا مضمون غرناطہ کے بارے میں تھا۔ رنگین تصویروں کے ساتھ یہ مضمون میگزین کے 20 صفحات پر پھیلا ہوا تھا۔ یہ بیک وقت اسپینی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تھا۔ اہل اسپین نے ایک عرصہ تک مسلم دور کو نظر انداز کیا۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ اسپین کی مسلم یادگاروں کی اہمیت ان کے لیے مزید اضافہ کے ساتھ وہی ہے جو ہندوستان میں تاج محل کی ہے۔ چنانچہ مضمون کا عنوان اس طرح قائم کیا گیا تھا غرناطہ، جنّت کی دوبارہ یافت: Granada, Paradise Regained یہ مضمون یہاں سے شروع کیا گیا تھا کہ یہ عمارتیں اور یہ باغات اس لیے بنائے گئے تھے کہ ہم اپنے تصور کی جنّت کا ایک پیشگی نظارہ کر سکیں۔ یہاں زمینی ماحول کو ہماری تصوراتی جنّت میں ڈھالا گیا تھا۔ اندلس کا مسلم غرناطہ زمین پر جنت بنانے کی ایسی ہی ایک مثال ہے۔ مضمون کی اگلی سطروں میں بتایا گیا تھا کہ ان مسلم بادشاہوں کو ان کے علامتی شہر غرناطہ سے اور ان کی بنائی ہوئی جنّت عدن سے نکالے جانے کے پانچ سو سال بعد اب کچھ لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی کھوئی ہوئی جنّت کو دوبارہ حاصل کر سکیں: Now, five hundred years after they were expelled from Granada, their private Eden and their most emblematic city,there are some who are trying to regain that lost paradise of theirs.(p.62) اسپین میں داخل ہونے کے بعد جب میں نے دیکھا کہ یہاں مسلمان آزاد ہیں اور یہاں اسلام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page