Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

سفرنامہ اسپین اسپین کی مشہور الکلا یونیورسٹی (University of Alcala) کے ریکڑ ڈاکٹر گلا (Mankel Gala) کے دستخط سے ان کا خط مورخہ 23 اگست 1994ء ملا۔ اس میں مجھے میڈلڈ کی تین روزہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ یہ انٹرنیشنل کانفرنس 30-28 نومبر 1994ء کو تین سامی مذاہب (یہودیت، عیسائیت، اسلام) کے اشتراک سے ہوئی۔ یہ کانفرنس امن عالم کے بارے میں تھی اور اس کا موضوع تھا: Three Religions: A Commitment for Peace اس دعوت نامہ میں مجھے خصوصی مہمان (special guest) کے طور پر مذکورہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کے مطابق اسپین کا سفر ہوا۔ اس سفر کا پہلا سبق آموز تجربہ اس وقت ہوا جب کہ مجھے اس کا‘‘ کوپن‘‘ ملا۔ ہوائی سفر کا روایتی طریقہ یہ ہے کہ آدمی متعلقہ ایئر کمپنی سے ٹکٹ حاصل کرتا ہے۔ اس کے بعد ایئر پورٹ پر اسے بورڈنگ کارڈ دیا جاتا ہے۔ اس بار پی ٹی اے کی بنیاد پر ایئر فرانس سے ہمیں جو چیز دی گئی وہ معروف ٹکٹ نہ تھا۔ بلکہ چار کوپن جو گو یا ٹکٹ بھی تھا اور بورڈنگ کارڈ بھی۔ مغربی ممالک اسی طرح اپنی ترقی کا سفر مسلسل جاری رکھتے ہیں۔ مگر ہندوستان جیسے ملکوں میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ 27 نومبر کی صبح کو گھر سے ایئر پورٹ جانے کے لیے نکلا تو سورج کی روشنی پھیل چکی تھی۔ سڑک پر حسب معمول گاڑیاں دوڑتی ہوئی نظر آئیں۔ قدیم زمانہ کے ایک شاعر نے کہا تھا: ہوئی صبح اور ادھر ہم کان پر رکھ کر قلم نکلے موجودہ زمانہ کا آدمی شاید کہے گا کہ صبح ہوئی اور ہم اپنی گاڑی لے کر روانہ ہوئے۔ مشینی انقلاب نے قدیم و جدید میں جو فرق کیا ہے اس کی یہ ایک علامتی مثال ہے۔ دہلی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر داخل ہوا تو اندر کا وسیع ہال پلاسٹک کے بڑے بڑے بنڈلوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر ایک پر لکھا ہوا تھا: با کو (Baku)۔ یہ سب ایئر ٹرانسپورٹ کے ذریعہ روس بھیجے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page