Urdu book · صومِ رمضان

روزہ اور قرآن

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

مناسبت ہے۔ رمضان کے مہینے میں روزہ کے عمل کے ذریعے رزقِ مادی کی اہمیت کو ذہن نشیں کرایا جاتا ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر رزقِ مادی کے بارے میں حقیقی شکر کا جذبہ پیدا ہو۔ قرآن ، انسان کے لیے رزقِ روحانی کا دسترخوان ہے (القرآن مأدبة الله في الأرض)۔ قرآن کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ انسان رزقِ روحانی کی اہمیت کو محسوس کرے اور قرآن سے دریافت کر کے اُس کو وہ اپنی زندگی میں شامل کرے ، وہ زیادہ سے زیادہ قرآن میں تدبر کر کے اپنا ذہنی تزکیہ کرے۔ رمضان میں پورے مہینہ روزہ رکھا جاتا ہے اور ذکر و عبادت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس طرح، رمضان کا مہینہ پورے معنوں میں ایک روحانی مہینہ بن جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں قرآن کی تلاوت کرنا، تراویح میں قرآن کو سننا، مختلف صورتوں میں قرآن کا چرچا کرنا، یہ چیزیں لوگوں کو یہ موقع دیتی ہیں کہ وہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن سے قریب ہوں ، وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کو سمجھیں۔ رمضان کا مہینہ، تاریخی اعتبار سے، قرآن کے نزول کا مہینہ ہے، اور تربیت کے اعتبار سے وہ قرآن کو اپنے دل و دماغ میں اتارنے کا مہینہ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : 79)۔ اس آیت میں تلاوتِ قرآن کے لیے وضو کا مسئلہ بیان نہیں ہوا ہے، بلکہ یہاں فہمِ قرآن کے لیے تطهیرِ نفس کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ اس آیت کی صحیح تشریح وہ ہے جو امام راغب الاصفہانی (وفات : 1108ء) نے کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : أي إنه لا يبلغ حقائق معرفته إلا مَنْ طَهَّرَ نفسه (المفردات في غريب القرآن) یعنی صرف وہ شخص قرآن کے حقائق کا ادراک کر سکے گا جو اپنے نفس کی تطہیر کرے، صرف فنی مہارت ، قرآن کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں، اور روزہ اسی تطہیرِ نفس کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ روزہ اور تراویح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page