Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

اور اپنی طرف اس کو عجز کے سوا کچھ اور دکھائی نہ دے گا۔ عجز سادہ طور پر صرف ایک احساس کا نام نہیں ہے، عجز کسی انسان کی زندگی میں سب سے بڑی قوت محرکہ (motivational force) ہے۔ عجز آدمی کی پوری شخصیت میں ایک بھونچال پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ عجز آدمی کے ذہن و فکر میں کامل انقلاب برپا کر دیتا ہے۔ عجز کے احساس کا تعلق خدا سے ہے، مگر جب کسی آدمی کے اندر حقیقی معنوں میں عجز کا احساس پیدا ہو جائے تو انسانی تعلقات میں بھی اس کا اظہار ہونے لگتا ہے۔ جو آدمی اپنے آپ کو خدا کے سامنے عاجز بناتا ہے، وہ اپنی اسی اسپرٹ کے تحت انسانوں کے سامنے متواضع (modest) بن جاتا ہے۔ عجز، خدا کی نسبت سے عجز ہے اور انسان کی نسبت سے تواضع۔ روزہ کی عظمت حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کے بارے میں فرمایا: كل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مأة ضعف، قال الله تعالى: إلا الصوم، فإنه لي وأنا أجزي به، يدع شهوته وطعامه من أجلي، للصائم فرحتان: فرحة عند فطره، وفرحة عند لقاء ربه، و لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك، والصيام جُنة، و إذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث و لايصخب، فإن سابه أحد أو قاتله فليقل: إني امرؤ صائم (صحیح مسلم، كتاب الصيام، باب: فضل الصيام)۔ انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سوگنا تک بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ مگر روزہ، پس وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار میرے لئے اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ۔ ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ۔ اور روزہ دار کے منہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page