Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

اتحادى کا واحد سبب يہى جذباتيت ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال يہ ہے کہ وہ معمولی اختلاف پر بھڑک اٹھتے ہيں۔ وہ اختلاف کے وقت اپنا اعتدال کھو بيٹھتے ہيں۔ وہ اس شخص کے دشمن بن جاتے ہيں جو کوئى ايسى بات کہے جس سے وہ اختلاف رکھتے ہوں۔ فرق اور اختلاف ايک فطرى حقيقت ہے۔ وہ ہر سماج ميں اور ہميشہ باقى رہتا ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ فرق و اختلاف کو مٹايا نہيں جاسکتا۔ صحابہ کرام کے زمانہ ميں بھى ان کے اندر بہت سے اختلاف تھے۔ موجودہ دنيا ميں اتحاد ہميشہ اس وقت پيدا ہوتا ہے جب کہ لوگوں کے اندر اختلاف کو برداشت کرنے کا مزاج ہو۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے نہ کہ اختلاف کے بغير متحد ہونے کا، کيوں کہ غير اختلافی سماج تو دنيا ميں کبھی بنایا ہی نہیں جاسکتا۔ سوال قرآن ميں آيا ہے کہ تم صبر کرو جس طرح اولوالعزم انبياء نے صبر کيا اور ان کے معاملہ ميں جلدی نہ کرو۔ (الاحقاف ۳۵) اس کا مطلب کيا ہے؟ اس کی تفصيل فرمائيں۔ (اسجد نواز صابری، بململ، بہار) جواب عزم کا مطلب پختہ ارادہ (determination) ہے۔ يعنی اپنے مقصد پر پوری طرح جھے رہنا، کسی بھی چیز کا اثر لے کر اپنے مقصد سے منحرف نہ ہونا۔ اس آیت میں داعی کا کردار بتایا گیا ہے۔ داعی سے جو کردار مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے خواہ کتنا ہی زیادہ منفی رد عمل کا اظہار ہو، مگر داعی اپنے مثبت رویہ پر قائم رہے۔ مدعو اگر اشتعال دلائے تب بھی داعی اشتعال نہ ہو۔ مدعو اگر قابل نفرت سلوک کرے تب بھی داعی اس کا خیر خواہ بنا رہے۔ مدعو اگر نزاع چھیڑے تب بھی داعی اس سے اعراض کرتے ہوئے لڑائی کی نوبت نہ آنے دے۔ یہی عزیمت ہے اور دعوت کا کام اس عزیمت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page