Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

مشقت جب خود فطرت کے قانون کے مطابق، انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے تو ہمیں اس کو مان کر اس کا حل تلاش کرنا چاہئے نہ کہ اس کا انکار کرکے۔ برسات کے موسم میں جب بارش ہوتی ہے تو انسانی آبادیوں کے لئے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مگر کوئی شخص یہ نہیں سوچتا کہ وہ برسات کی بارش کو روکے۔ بلکہ ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ بارش کے باوجود وہ کس طرح اپنے بچاؤ کی تدبیر کرے۔ یہی طریقہ ہم کو ٹینشن (ذہنی تناؤ) کے مسئلہ کے بارے میں اختیار کرنا ہے۔ ہم ٹینشن کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ ہم ٹینشن کو بطور واقعہ مان لیں تو یقینی طور پر ہم اپنے آپ کو اس کا شکار ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ یہی اس مسئلہ کا فطری حل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹینشن سے خالی زندگی گزارنے کے لئے واحد کامیاب فارمولا یہ ہے کہ ٹینشن کو انسانی زندگی کے ایک لازمی حصہ کے طور پر قبول کر لیا جائے۔ سوال واقعہ یہ ہے کہ میرا مسئلہ وہی ہے جو بہت سی مسلم لڑکیوں کا مسئلہ ہے اور وہ میری شادی کا مسئلہ ہے۔ میری ماں آج کل پریشانی میں ہیں ورنہ وہ خود آپ سے رابطہ قائم کرتے۔ میرے رشتہ کیلئے بہت سے پیغامات آئے۔ ان میں سے کوئی رشتہ میرے والدین کو پسند نہ آسکا۔ میں اللہ پر بہت یقین رکھتی ہوں ۔ مگر جب میں اپنے والدین کو پریشان دیکھتی ہوں تو اپنا اعتماد کھودیتی ہوں۔ میری عمر ۲۰ سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ میں ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہوں اور میں نے کمپیوٹر کی ٹریننگ لی ہے۔ آج کل میں ایک اسلامک ویب سائٹ پر کام کر رہی ہوں۔ میری گذارش ہے کہ آپ مجھے کچھ دعا بتائیں اور مشورہ دیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہر ایک کیلئے نکاح کا ایک مقرروقت ہے۔ اللہ کی رحمت سے میں اپنے کام میں کامیاب ہوں ۔ (ایک پاکستانی خاتون، انٹرنیٹ سے ترجمہ)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page