Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

آزمایش (test) کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ اگر اس جملہ پر غور کریں تو ماننا ہو گا کہ خدا نہ عالم الغیب ہے، نہ وہ کسی کے دل کی بات کو جانتا ہے۔ کیونکہ ٹیسٹ کا فائدہ یہی ہے کہ جو ہم نہیں جانتے تھے وہ جان جاتے ہیں۔ (ایم اے خاں، کلکتہ) جواب ٹیسٹ (test) کا مقصد یہ نہیں ہے کہ خدا خود جان جائے۔ ٹیسٹ کا مقصد سلیکشن ہے۔ یہ ٹیسٹ خدا کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ وہ خود انسان کی نسبت سے ہے۔ یعنی انسانوں میں چھانٹ کر اچھے اور برے کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک چیز جو نظری حقیقت ہے اس کو معلوم اور مشہود و واقعہ بنا دیا جائے۔ سوال ایک مسلم جماعت کے ایک صاحب سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں جو مجلس لگتی ہے اس مجلس میں سبھی لوگوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حدیث کا مفہوم ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول کا ذکر ہوتا ہے اس مجلس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ اگر وہاں کوئی بدعتی مسلمان ہو تو کیا اس کی بھی مغفرت کردی جاتی ہے۔ اس کا وہ جواب نہ دے سکے۔ برائے مہربانی آپ اس سوال کا جواب دیں (ایک قاری الرسالہ) جواب حدیث (صحیح مسلم، کتاب الذکر) میں مجالس الذکر کا بیان آیا ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسی مجالس میں شرکت کرنے والوں کو اللہ کی طرف سے بخش دیا جاتا ہے۔ مگر اس بشارت کا اطلاق اس مجلس پر ہے جو اللہ کی مطلوب مجلس نہ ہو نہ کہ کسی جماعت کے نظم کے تحت قائم کردہ مجلس۔ اسی طرح ذکر سے مراد وہ ذکر ہے جو اللہ کے علم میں ذکر ہو، نہ کہ وہ ذکر جو کسی جماعت کے اپنے وضع کردہ نظام کے تحت ذکر قرار دیا گیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر ایک اعلیٰ عبادت ہے مگر ذکر سے مراد ورد نہیں ہے اور نہ کسی کی تقریر کو ذکر کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔ ذکر دراصل ایک فرد مسلم کے دل میں امنڈ نے والے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page