Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

لئے انتخاب کیا تھا۔ لیکن مجھے کسی بھی یونیورسٹی میں اس موضوع پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب میں نے’’اقبال اور سیکولرزم‘‘ کے تحقیقی مقالہ پر کام کرنا شروع کیا ہے۔ لیکن اقبال ہمیشہ تشکیک کے شکار رہے ہیں۔ اقبال کی شاعری اقبال کے تشلیکی مزاج کی بھر پور عکاسی کرتی ہے۔ آپ اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ (ماجد جہانگیر، کشمیر) جواب ہماری یونیورسٹیوں کا جو نظام ہے اس کے تحت کسی تخلیقی موضوع کے لئے ریسرچ کی اجازت ملنا بہت مشکل ہے۔ اس لئے اگر آپ کی یونیورسٹی میں مذکورہ موضوع منظور نہ ہو سکا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ جہاں تک’’اقبال اور سیکولرزم‘‘ کے موضوع کا تعلق ہے اس کے بارے میں میری رائے ہے کہ اقبال اور ان کے دوسرے ہم عصر مثلاً سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب، وغیرہ نے موجودہ سیکولرزم کو سرے سے سمجھا ہی نہیں۔ اقبال سمیت یہ تمام لوگ ردِ عمل کی نفسیات کا شکار تھے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر مغرب کی ہر چیز سے متنفر تھے۔ اسلئے یغضک الشی یعنی ویصم کے اصول کے مطابق، وہ سیکولرزم کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھ نہ سکے۔ اس بنا پر وہ اس کو سمجھنے سے عاجز رہے۔ جس طرح ہر فکری نظام میں کچھ انتہا پسند (extremists) ہوتے ہیں اسی طرح سیکولرزم کے حلقہ میں بھی کچھ انتہا پسند قسم کے لوگ پیدا ہوئے ۔ اسطرح کی انتہا پسندانہ تشریح کی بنا پر موجودہ زمانہ کے مسلم علماء اور دانشوروں نے سیکولرزم کا ترجمہ لا دینیت کیا۔ مگر یہ ترجمہ صحیح نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثریت کی رائے کے مطابق، عملی طور پر جو سیکولر زم دنیا میں رائج ہوا وہ بلا شبہ ایک موافق دین نظریہ تھا، نہ کہ مخالف دین نظریہ۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سیکولرزم عملی طور پر اسی قسم کا ایک بندوبست ہے جو پیغمبر اسلام کے زمانہ میں صلح حدیبیہ کی صورت میں سامنے آیا۔ سیکولرزم کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ ہے کہ اسٹیٹ مشترک قسم کے نیشنل معاملات کو چھوڑ کر مذہب اور کلچر کے معاملہ میں نا طرفداری (non-interference) کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page