سوال و جواب
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ وہ جدید مسلم نسلوں کی کامیاب رہنمائی کر سکیں۔ ۱۲۔ سیاست میں حصہ لینا کوئی غلط یا غیر شرعی بات نہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے علماء اپنی فکری اور علمی پس ماندگی کی بنا پر اس قابل نہیں ہیں کہ وہ سیاست میں کوئی مفید کردار ادا کر سکیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانہ کے علماء نے بڑے پیمانہ پر سیاست میں عملاً حصہ لیا ہے۔ مگر وہ اپنے اس سیاسی عمل سے مسلمانوں کو تباہی کے سوا کچھ اور نہ دے سکے۔ ۱۳۔ میرے نزدیک یہ مفروضہ غلط ہے کہ ملت بھیڑیوں کا چارہ بن رہی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ملت خود اپنی غلطیوں کی قیمت ادا کر رہی ہے۔ جہاں تک اہون البلیتین کا تعلق ہے، وہ ایک مسلمہ شرعی اصول ہے ۔ حدیث میں اس کو اختیار اَعْسَرَ کے مقابلہ میں اختیار ایسر کہا گیا ہے (صحیح البخاری)۔ حسبِ ضرورت اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ۔ ۱۴۔ فقہی مسالک کوئی دورِ جدید کی چیز نہیں ۔ وہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں موجود تھے ۔ جو فرق ہے وہ یہ کہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں فقہی فروق کی بنیاد پر گروہی مسالک نہیں بنے۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کے فروق کو لے کر انتہا پسندانہ گروہی مسالک بنا دیے گئے ہیں۔ اس معاملہ کو میں نے اپنی کتاب ’’ تجدیدِ دین‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اسلامی شریعت کے دو بڑے حصے ہیں ۔ ایک بنیادی احکام کا حصہ اور دوسرے ضمنی اور فرعی احکام کا حصہ ۔ بنیادی احکام سب کے سب یکساں ہیں ، ان میں کوئی فرق و اختلاف نہیں ۔ مگر ضمنی اور فرعی احکام میں بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ دونوں قسم کے احکام کے درمیان یہ فرق عین فطری ہے اور وہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ فرعی اختلافات کو توسع اور تنوع (diversity) پر محمول کیا جائے۔ ان کے معاملہ میں رواداری کا انداز اختیار کیا جائے ، نہ کہ شدت پسندی کا انداز۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader