روزہ کی حقیقت
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
غزوہ بدر (رمضان ۲ھ) جب کہ رسول اور اصحاب رسول کو قریش کے اوپر فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔ فتح مکہ (رمضان ۸ھ) جس نے پورے عرب پر اسلام کو غالب کر دیا۔ غزوہ تبوک (رمضان ۹ھ) جس نے رومیوں کے اوپر اہل اسلام کی دھاک قائم کردی۔ غزوہ تبوک رجب میں شروع ہو کر رمضان میں ختم ہوا۔ فلسطین (رمضان ۱۵ھ) عمرو بن العاص نے فلسطین کو فتح کر کے بیت المقدس کو اسلام کے حدود سلطنت میں شامل کیا۔ معرکہ اسپین (رمضان ۹۱ھ) جب کہ طارق بن زیاد نے اسپین میں کامیاب پیش قدمی کی۔ سندھ (رمضان ۹۶ھ) محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہوئے اور وہاں اسلام کو پھیلایا۔ دولت اندلس (رمضان ۱۳۸ھ) عبد الرحمن الداخل اندلس میں داخل ہوئے اور وہاں باقاعدہ دولت امویہ قائم کی۔ صقلیہ (رمضان ۲۱۲ ھ) زیاد بن الاغلب نے جزیرہ صقلیہ کو فتح کیا۔ حروب صلیبیہ (رمضان ۵۸۴ ھ) حطین کی مشہور جنگ میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبی طاقتوں پر فتح حاصل کی۔ معرکہ عین جالوت (رمضان ۶۵۸ھ) جس نے تاتاریوں کو شکست دے کر مسلم دنیا میں ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔ معرکہ سوئز (رمضان ۱۳۹۳ھ) جب کہ مصری فوجوں نے اسرائیلی فوجوں کو شکست دے کر نہر سوئز پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس قسم کے تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ روزہ اور جدوجہد حیات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ روزہ کی مشقت آدمی کو کمزور نہیں کرتی۔ بلکہ وہ اُس کو اس قابل بناتی ہے کہ زندگی کے معرکہ میں وہ زیادہ قوت اور طاقت کے ساتھ حصہ لے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader